سورة البقرة - آیت 154

وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم سمجھ نہیں رکھتے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥٤۔ ١ شہدا کو مردہ نہ کہنا ان کے اعزاز اور تکریم کے لئے ہے، یہ زندگی برزخ کی زندگی ہے جس کو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں یہ زندگی اعلٰے قدر مراتب انبیاء و مومنین، حتیٰ کہ کفار کو بھی حاصل ہے۔ شہید کی روح اور بعض روایات میں مومن کی روح بھی ایک پرندے کی طرح جنت میں جہاں چاہتی ہیں پھرتی ہیں دیکھیے (ھٰٓاَنْتُمْ اُولَاۗءِ تُحِبُّوْنَھُمْ وَلَا یُحِبُّوْنَکُمْ وَتُؤْمِنُوْنَ بالْکِتٰبِ کُلِّھٖ ۚوَاِذَا لَقُوْکُمْ قَالُوْٓا اٰمَنَّا ۑ وَاِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ۭ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ ۭ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ ١١٩؁) 003:119 (ابن کثیر)