سورة ھود - آیت 113

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ان کی طرف نہ جھکنا جنہوں نے ظلم کیا ورنہ تمہیں آگ آلے گی اور اللہ کے سوا کوئی دوست نہیں ہوں گے۔ تمہیں مدد نہ دی جائے گی۔“ (١١٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١١٣۔ ١ اس کا مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ نرمی کرتے ہوئے ان سے مدد حاصل مت کرنا۔ اس سے ان کو یہ تأثر ملے گا کہ گویا تم ان کی دوسری باتوں کو بھی پسند کرتے ہو۔ اس طرح یہ تمہارا ایک بہت بڑا جرم بن جائے گا جو تمہیں بھی ان کے ساتھ، نار جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے۔ اس سے ظالم حکمرانوں کے ساتھ ربط و تعلق کی بھی ممانعت نکلتی ہے، اگر مصلحت عامہ یا دینی منافع متقاضی ہوں۔ ایسی صورت میں دل سے نفرت رکھتے ہوئے ان سے ربط و تعلق کی اجازت ہوگی۔ جیسا کہ بعض احادیث سے واضح ہے۔