سورة ھود - آیت 35

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَاهُ ۖ قُلْ إِنِ افْتَرَيْتُهُ فَعَلَيَّ إِجْرَامِي وَأَنَا بَرِيءٌ مِّمَّا تُجْرِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے بنالیا ہے۔ فرما دیں اگر میں نے اسے اپنی طرف سے بنا لیا ہے تو میرا جرم مجھ پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔“ (٣٥)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٥۔ ١ بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے؟