سورة ھود - آیت 24

مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالْأَعْمَىٰ وَالْأَصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ ۚ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

دونوں گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہیں ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟“ (٢٤)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٤۔ ١ پچھلی آیات میں مومنین اور کافرین اور سعادت مندوں اور بدبختوں، دونوں کا تذکرہ فرمایا۔ اب اس میں دونوں کی مثال بیان فرما کر دونوں کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا رہا ہے۔ فرمایا، ایک کی مثال اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور دوسرے کی دیکھنے اور سننے والے کی طرح۔ کافر دنیا میں حق کا روئے زیبا دیکھنے سے محروم اور آخرت میں نجات کے راستہ سے بے بہرہ، اسی طرح حق کے دلائل سننے سے بے بہرہ ہوتا ہے، اسی لئے ایسی باتوں سے محروم رہتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوں۔ اس کے برعکس مومن سمجھ دار، حق کو دیکھنے والا اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ حق اور خیر کی پیروی کتا ہے، دلائل کو سنتا اور ان کے ذریعے سے شبہات کا ازالہ کرتا اور باطل سے اجتناب کرتا ہے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ استفہام نفی کے لیے ہے۔ یعنی دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔"لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَاۗیِٕزُوْنَ " 59۔ الحشر :20) (جنتی دوزخی برابر نہیں ہو سکتے جنتی تو کامیاب ہونے والے ہیں) ایک اور مقام پر اسے اس طرح بیان فرمایا " اندھا اور دیکھنے والا برابر نہیں۔ اندھیرے اور روشنی، سایہ اور دھوپ برابر نہیں، زندے اور مردے برابر نہیں۔ (سورہ فاطر۔ ١٩، ٢٠) (وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ 19؀ۙ وَلَا الظُّلُمٰتُ وَلَا النُّوْرُ 20 ؀ۙ) 35۔ فاطر :20-19)