سورة یونس - آیت 23

فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر جب وہ انھیں نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو! تمھاری سرکشی تمھارے ہی برخلاف ہے۔ دنیا کی زندگی کا فائدہ ہے پھر ہماری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے تو ہم تمھیں خبر دیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔“ (٢٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٣۔ ١ یہ انسان کی ناشکری کی عادت کا ذکر ہے جس کا تذکرہ ابھی آیت ١٢ میں بھی گزرا، اور قرآن میں اور بھی متعدد مقامات پر اللہ نے اس کا ذکر فرمایا ہے۔ ٢٣۔ ٢ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تم یہ ناشکری اور سرکشی کرلو، چار روزہ متاع زندگی سے فائدہ اٹھا کر بالآخر تمہیں ہمارے ہی پاس آنا ہے، پھر تمہیں، جو کچھ تم کرتے رہے ہو گے، بتلائیں گے یعنی ان پر سزا دیں گے۔