سورة التوبہ - آیت 73

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو۔ اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ پلٹ کرجانے کی بری جگہ ہے۔“ (٧٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٣۔ ١ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کفار اور منافقین سے جہاد اور ان پر سختی کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس کے مخاطب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ہے، کافروں کے ساتھ منافقین سے بھی جہاد کرنے کا حکم ہے، اس کی بابت اختلاف ہے۔ ایک رائے تو یہی ہے کہ اگر منافقین کا نفاق اور ان کی سازشیں بے نقاب ہوجائیں تو ان سے بھی اس طرح جہاد کیا جائے، جس طرح کافروں سے کیا جاتا ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ منافقین سے جہاد یہ ہے کہ انہیں زبان سے وعظ و نصیحت کی جائے۔ یا وہ اخلاقی جرائم کارتکاب کریں تو ان پر حدود نافذ کی جائیں تیسری رائے یہ ہے کہ جہاد کا حکم کفار سے متعلق ہے اور سختی کرنے کا منافقین سے امام ابن کثیر فرماتے ہیں ان آراء میں آپس میں کوئی تضاد اور منافات نہیں اس لیے کہ حالات و ظروف کے مطابق ان میں سے کسی بھی رائے پر عمل کرناجائز ہے ٧٣۔ ٢ سختی اور قوت سے دشمنوں کے خلاف اقدام ہے۔ محض زبان کی سختی مراد نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق کریمانہ کے ہی خلاف ہے، اسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اختیار کرسکتے تھے نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا حکم آپ کو مل سکتا تھا۔ ٧٣۔ ٣ جہاد اور سختی کے حکم کا تعلق دنیا سے ہے۔ آخرت میں ان کے لئے جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔