سورة التوبہ - آیت 50

إِن تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ ۖ وَإِن تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِن قَبْلُ وَيَتَوَلَّوا وَّهُمْ فَرِحُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اگر آپ کو کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بری لگتی ہے اور اگر آپ کو کوئی مصیبت پہنچے تو کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا بچاؤ کرلیا تھا اور اس حال میں وہ بہت خوش پھرتے ہیں۔ (٥٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥٠۔ ١ سیاق کلام کے اعتبار سے حسنَۃ،ُ سے یہاں کامیابی اور غنیمت اور سَیَئَۃ سے ناکامی، شکست اور اسی قسم کے نقصانات جو جنگ میں متوقع ہوتے ہیں مراد ہیں۔ اس میں ان کے خبث باطنی کا اظہار ہے جو منافقین کے دلوں میں تھا اس لئے کہ مصیبت پر خوش ہونا اور بھلائی حاصل ہونے پر رنج اور تکلیف محسوس کرنا، غایت عداوت کی دلیل ہے۔