سورة التوبہ - آیت 39

إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اگر تم نہ نکلوگے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا اور تمہارے علاوہ اور لوگ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑسکوگے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ (٣٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣٩۔ ١ شام کے عیسائی بادشاہ ہرقل کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہا ہے چنانچہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اس کے لئے تیاری کا حکم دے دیا۔ یہ شوال سن ٩ / ہجری کا واقعہ ہے۔ موسم سخت گرمی کا تھا اور سفر بہت لمبا تھا۔ بعض مسلمانوں اور منافقین پر یہ حکم گراں گزرا، جس کا اظہار اس آیت میں کیا گیا ہے اور انہیں لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ یہ جنگ تبوک کہلاتی ہے جو حقیقت میں ہوئی نہیں۔ ٢٠ روز مسلمان ملک شام کے قریب تبوک میں رہ کر واپس آگئے۔ اس کو جیش العسرۃ کہا جاتا ہے کیونکہ اس لمبے سفر میں اس لشکر کو کافی دقتوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اثاقَلْتُمْ یعنی سستی کرتے اور پیچھے رہنا چاہتے ہو۔ اس کا مظاہرہ بعض لوگوں کی طرف سے ہوا لیکن اس کو منسوب سب کی طرف کردیا گیا (فتح القدیر)