سورة التوبہ - آیت 8

كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” کیسے ممکن ہے وہ اگر تم پر غالب آجائیں تو تمہارے بارے میں نہ کسی قرابت اور نہ کسی عہدکالحاظ کریں گے تمہیں اپنی زبانوں سے خوش کرتے ہیں اور ان کے دل نہیں مانتے اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ (٨)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٨۔ ١ مشرکین کی زبانی باتوں کا کیا اعتبار، جب کہ ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غالب آجائیں تو کسی قرابت اور عہد کا پاس نہیں کریں گے۔ بعض مفسرین کے نزدیک پہلا کیف مشرکین کے لئے ہے اور دوسرے سے یہودی مراد ہیں، کیونکہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ اللہ کی آیتوں کو کم قیمت پر بیچ دیتے ہیں۔ اور یہ وطیرہ یہودیوں کا ہی رہا ہے۔