سورة الانفال - آیت 63

وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ ۚ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ ۚ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اللہ نے ان کے دلوں کے درمیان الفت ڈال دی اگر آپ زمین میں جو کچھ ہے سب کا سب خرچ کردیتے ان کے دلوں کے درمیان الفت نہیں ڈال سکتے لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈال دی۔ بے شک وہ غالب، کمال حکمت والاہے۔ (٦٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٣۔ ١ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مومنوں پر جو احسانات فرمائے، ان میں سے ایک بڑے احسان کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ یہ کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مومنین کے ذریعے سے مدد فرمائی، وہ آپ کے دست بازو اور محافظ و معاون بن گئے۔ مومنین پر یہ احسان فرمایا کہ ان کے درمیان پہلے جو عداوت تھی، اسے محبت و الفت میں تبدیل فرما دیا، پہلے وہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، اب ایک دوسرے کے جانثار بن گئے، پہلے ایک دوسرے کے دلی دشمن تھے اب آپس میں رحیم و شفیق ہوگئے صدیوں پرانی باہمی عداوتوں کو اس طرح ختم کر کے، باہم پیار اور محبت پیدا کردینا یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کی قدرت و مشیت کی کارفرمائی تھی، ورنہ یہ ایساکام تھا کہ دنیا بھر کے خزانے بھی اس پر خرچ کردیئے جاتے تب بھی یہ گوہر مقصود حاصل نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا ہے : ( اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَاۗءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِھٖٓ اِخْوَانًا) 3۔ آل عمران :103) میں بھی فرمایا ہے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی غنائم حنین کے موقع پر انصار سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا"اے جماعت انصار! کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ تم گمراہ تھے اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں ہدایت نصیب فرمائی۔ تم محتاج تھے اللہ نے تمہیں میرے ذریعے سے خوش حال کردیا اور تم ایک دوسرے سے الگ الگ تھے اللہ نے میرے ذریعے سے تمہیں آپس میں جوڑ دیا "نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بات کہتے انصار اس کے جواب میں یہی کہتے اللہ و رسولہ امن "۔ اللہ اور اس کے رسول کے احسانات اس سے کہیں زیادہ ہیں"(صحیح بخاری)