سورة الانفال - آیت 21

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا ہم نے سنا، حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ (٢١)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢١۔ ١ یعنی سن لینے کے باوجود، عمل نہ کرنا، یہ کافروں کا طریقہ ہے، تم اس رویے سے بچو۔ اگلی آیت میں ایسے ہی لوگوں کو بہرہ، گونگا، غیر عاقل اور بدترین خلائق قرار دیا گیا ہے۔ دَوَبّ، دَا بَّۃ، کی جمع ہے، جو بھی زمین پر چلنے پھرنے والی چیز ہے وہ دابہ ہے۔ مراد مخلوقات ہے۔ یعنی یہ سب سے بدتر ہیں جو حق کے معاملے میں بہرے گونگے اور غیر عاقل ہیں۔