سورة الانفال - آیت 9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جب تم اپنے رب سے مدد مانگ رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول کی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مدد کرنے والاہوں جو یکے بعد دیگرے آنے والے ہیں۔ (٩)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩۔ ١ اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد ٣١٣ تھی جب کہ کافر اس سے تین گنا (یعنی ہزار کے قریب تھے پھر مسلمانوں نہتے اور بے سروسامان تھے جب کے کافروں کے پاس اسلحے کی بھی فروانی تھی ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ کی ذات ہی تھی جس سے وہ گڑ گڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے خود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروف دعا تھے (صحیح بخاری) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعائیں قبول کیں اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لئے آگئے۔