سورة الاعراف - آیت 154

وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ ۖ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے تختیاں اٹھالیں اور ان میں لکھا ہوا تھا کہ ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔“ (١٥٤)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٥٤۔ ١ یہاں نسخہ سے مراد یا تو وہ اصل الواح ہیں جن پر تورات لکھی گئی تھی یا اس سے مراد وہ دوسرا نسخہ ہے جو تختیوں کو زور سے پھنکنے کی وجہ سے ٹوٹ جانے کے بعد اس سے نقل کر کے تیار کیا گیا تھا تاہم بات پہلی ہی لگتی ہے۔ کیونکہ آگے چل کر آتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان تختیوں کو اٹھا لیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تختیاں ٹوٹی نہیں تھیں۔ بہرحال اس کا مرادی مفہوم ' مضامین ' ہے جو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے۔ ١٥٤۔ ٢ تورات کو بھی قرآن کریم کی طرح، انہیں لوگوں کے لئے ہدایت اور رحمت قرار دیا گیا ہے، جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں، کیونکہ اصل فائدہ آسمانی کتابوں سے ایسے ہی لوگوں کو ہوتا ہے۔ دوسرے لوگ تو چونکہ اپنے کانوں کو حق کے سننے سے، آنکھوں کو حق کے دیکھنے سے بند کئے ہوئے ہوتے ہیں، اس چشمہ فیض سے وہ بالعموم محروم ہی رہتے ہیں۔