سورة الاعراف - آیت 73

وَإِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا ۗ قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ ۖ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ هَٰذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً ۖ فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ ۖ وَلَا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے پس اسے چھوڑدو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمہیں ایک دردناک عذاب پکڑ لے گا۔ (٧٣)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٣۔ ١ یہ ثمود، حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ میں رہائش پذیر تھے ٩ ہجری میں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ اور آپ کے صحابہ کا ان کے مساکن اور وادی سے گزر ہوا، جس پر آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ معذب قوموں کے علاقے سے گزرو تو روتے ہوئے، یعنی عذاب الٰہی سے پناہ مانگتے ہوئے گزرو (صحیح بخاری) ان کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے۔ یہ عاد کے بعد کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر سے مطالبہ کیا کہ پتھر کی چٹان سے ایک اونٹنی نکال کر دکھا، جسے ہم نکلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے عہد لیا کہ اس کے بعد اگر ایمان نہ لائے تو وہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر اونٹنی ظاہر فرما دی۔ اس اونٹنی کے متعلق انہیں تاکید کردی گئی کہ اسے بری نیت سے کوئی ہاتھ نہ لگائے ورنہ عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاؤ گے۔ لیکن ان ظالموں نے اس اونٹنی کو بھی قتل کر ڈالا، جس کے تین دن بعد انہیں چنگھاڑ (صَیْحَۃ، سخت چیخ اور رَجْفَۃ، زلزلہ) کے عذاب سے ہلاک کردیا گیا، جس سے وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے رہ گئے۔