سورة الاعراف - آیت 70

قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا ۖ فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

انہوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم ایک اللہ کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ جس کی تو دھمکی ہمیں دیتا ہے وہ ہم پر لے آ، اگر تو سچے لوگوں میں سے ہے“ (٧٠)

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٧٠۔ ١ آباؤ اجداد کی تقلیدِ ہر دور میں گمراہی کی بنیاد رہی ہے۔ قوم عاد نے بھی یہی ' دلیل ' پیش کی اور شرک کو چھوڑ کر، توحید کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اپنے بڑوں کی تقلید کی یہ بیماری عام ہے۔ ٧٠۔ ٢ جس طرح قریش مکہ نے بھی رسول اللہ کی دعوت توحید کے جواب میں کہا تھا ' اے اللہ! اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر بھیج دے '۔ یعنی شرک کرتے کرتے مشرک کی مت بھی ماری جاتی ہے۔ حالانکہ عقل مندی کا تقاضا یہ تھا کہ یہ کہا جاتا یا اللہ اگر یہ سچ ہے اور تیری ہی طرف سے ہے تو ہمیں اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بہرحال قوم عاد نے اپنے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہہ دیا، کہ اگر تو سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ جس عذاب سے وہ ڈراتا ہے، بھیج دے۔