سورة الانعام - آیت 105

وَكَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ الْآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور ہم اسی طرح آیات کو پھیرپھیر کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ کہیں تو نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم اسے ان لوگوں کے لیے واضح کردیں جو جانتے ہیں۔ (١٠٥)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پہلے خطاب کا تتمّہ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منکرین رسالت کا ایک بہانہ بیان کیا ہے اس کی تمہید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایک آیت کرکے قرآن نازل کرتا اور ایک مضمون کو مختلف اسالیب سے بیان فرماتا ہے تاکہ اہل علم پر اللہ تعالیٰ کی مراد منکشف ہوجائے اور ان کے ذہنوں میں صحیح مفہوم مستقر ہوجائے جو اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منشا ہے۔ لیکن کفار کو اس سے یہ شبہ ہوا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہود و نصاریٰ کے علماء سے مذاکرہ اور مباحثہ کرتے ہیں۔ جو اس بحث و تمحیص سے حاصل ہوتا ہے۔ اسے مختلف فقروں اور جملوں میں ڈھال کر ہمارے سامنے پڑھتے ہوئے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آپ پر وحی نازل ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ لوگوں سے پڑھا اور حاصل کیا ہوا ہوتا ہے ورنہ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہوتا تو اس کا ایک ہی انداز ہوتا اور یک بارگی پوری کتاب نازل ہوجاتی۔ ان کے اس شبہ کا قرآن مجید نے متعدد بار جواب دیا ہے کہ اگر تمھارے زعم میں یہ اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں ہے کسی انسان کا بنایا اور سکھایا ہوا ہے۔ تو تم اس جیسی کوئی چھوٹی سورۃ بناکر لے آؤ۔ اس کے جواب میں وہ لوگ نہ ایسا کرسکے اور نہ قیامت تک کوئی شخص یا ادارہ کرسکتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی وحی کردہ کتاب ہے۔ یہ جواب دینے کے بعد رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمجھایا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی نازل کی ہوئی وحی کی پیروی کرتے رہیں تاکہ ان کی طعن آمیز باتوں سے آپ کی دعوت و تبلیغ متاثر نہ ہو۔ اس فرمان سے یہ بھی مقصود ہے کہ ان کے اس شک و شبہ اور طعن و تشنیع سے جو آپ کو حزن و ملال ہوتا ہے وہ زائل ہوجائے اور آپ کے دل کو ڈھارس حاصل ہو۔ پھر فرمایا اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اس فرمان میں اس پر متنبہ کیا گیا ہے کہ آپ صرف اپنے رب کی اطاعت کریں۔ اور جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے اپنے مشن کو متاثر نہ ہونے دیں۔ مشرکین سے بے جا تکرار اور ایک حد سے زیادہ اصرار کرنے کے بجائے اعراض کیجیے۔ اس کا معنیٰ یہ نہیں ہے کہ ان کو تبلیغ نہ کریں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ دل آزار باتوں سے اعراض کریں اور ان پر غم اور افسوس نہ کریں تاکہ آپ کی دعوت و تبلیغ کے مشن کو نقصان نہ پہنچے۔ مسائل ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے پابند تھے۔ ٢۔ مشرکین سے اعراض کرنا چاہیے۔ ٣۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی پر نگران نہیں تھے۔ تفسیر بالقرآن نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی کے پابند تھے : ١۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمھیں ڈراؤں۔ (الانعام : ١٩) ٢۔ آپ مضبوطی سے پکڑ لیں جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے یہی صراط مستقیم ہے۔ (الزخرف : ٣ ٤) ٣۔ وحی الٰہی کے بغیر نبی اپنی مرضی سے کلام نہیں کرتا۔۔ (النجم : ٤) ٤۔ اے نبی جو آپ پر وحی کی گئی ہے آپ اس کی پیروی کریں۔ (الاحزاب : ٢) ٥۔ میں پیروی نہیں کرتا مگر اس کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ (الاحقاف : ٩) ٦۔ آپ فرما دیں میں وحی کے ذریعہ تمھیں ڈرانے والا ہوں۔ (الانبیاء : ٤٥)