سورة الانعام - آیت 13

وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور اسی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔“ (١٣)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : صرف زمین و آسمان اللہ کی ملکیت نہیں بلکہ ان کی گردش کے نتیجہ میں رات اور دن کا وجود اور ظہور، تاریکیوں اور روشنیوں میں رہنے والی ہر چیز اس کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ مشرکین مکہ کے الزامات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ اور توحید کا پرچار اس لیے کیا ہے تاکہ آپ اس کے بدلے میں دنیا کا مال و متاع جمع کرسکیں۔ اس کے لیے ایک موقع پر انھوں نے آپ کو پرکشش مراعات پیش بھی کی تھیں۔ جن میں آپ کو حاکم تسلیم کرنا، نکاح کے لیے خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے ساتھ انھوں نے آپ کے حسب منشاء دولت جمع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ کچھ مفسرین کے خیال کے مطابق یہ اسی پیشکش کا جواب ہے کہ تم لوگ توحید باری تعالیٰ کے بدلے میں جو پیشکشیں کرتے ہو۔ ذرا سوچو تو سہی یہ زمین و آسمان، رات اور دن ان میں رہنے اور بسنے والی ہر چیز کس کی ملکیت ہے؟ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے کہ جس طرح رات کے بعد دن کا آنا یقینی ہے ایسے ہی مشکلات کے بعد آسانیوں اور کامیابیوں کا حاصل ہونا بھی یقینی ہے۔ جیسے رات کی تاریکی اور دن کی روشنی لازم و ملزوم ہیں ایسے ہی حق و باطل کی کشمکش بھی لازم و ملزوم ہے لہٰذا آپ حوصلہ پست کرنے کے بجائے اپنا کام جاری رکھیں۔ جس اللہ نے آپ کو اپنا پیغام رساں بنایا ہے۔ وہ اللہ آپ کے اخلاص اور آپ کی محنت شاقہ جاننے کے ساتھ آپ کے مخالفوں کی ہر بات کو سننے والا اور ہر حرکت کو جاننے والا ہے۔ مسائل ١۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے کنٹرول میں ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کا ظاہر و باطن جانتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر بات جانتا اور سنتا ہے : ١۔ کیا تم اللہ کے سواان کی عبادت کرتے ہو ؟ جو تمھارے نفع و نقصان کا مالک نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (المائدۃ: ٧٦) ٢۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : ١) ٣۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ: ١١)