سورة المآئدہ - آیت 90

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! یقیناً شراب اور فال نکالنا شیطان کے گندے کاموں سے ہیں اس سے بچو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ (٩٠)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح اللہ تعالیٰ کے نام کا تقدس ہے کہ اسے ناجائز استعمال نہیں کرنا اسی طرح اس کے حکم کا تقاضا ہے کہ شراب اور شیطانی کاموں کو چھوڑ دیا جائے۔ سورۃ البقرۃ کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ عربی میں ہر اس چیز کو خمر کہتے ہیں جو دوسرے پر پردہ ڈال دے۔ اسی مناسبت سے عورتوں کی اوڑھنیوں کو بھی قرآن مجید میں خمر کہا گیا ہے (سورۃ النور : ٣١) کیونکہ عورت اس سے اپنا سر، چہرہ اور جسم ڈھانپتی ہے شراب کو خمر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ آدمی کی عقل و فکر پر پردہ ڈال دیتی ہے۔ اسلام کے دوسرے ضابطوں اور قوانین کی طرح شراب کے حکم امتناعی کی تکمیل بھی تدریجاً ہوئی ہے۔ شراب کی جسمانی اور اخلاقی قباحتوں کی وجہ سے اسے مطلقاً حرام قرار دیا گیا ہے۔ شراب کا عادی شخص اپنی عمر سے کہیں پہلے بوڑھا ہوجاتا ہے آدمی شراب پی کر ایسی حرکات کرتا اور خرافات بکتا ہے کہ جس کا صحیح حالت میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس لیے شراب کسی بھی مذہب میں جائز قرار نہیں دی گئی۔ شراب کے بارے میں دور حاضر کے ڈاکٹر بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اس کے فائدے نہایت عارضی اور معمولی ہیں لیکن روحانی، جسمانی، اخلاقی، معاشرتی اور معاشی نقصان لامحدود اور ناقابل تلافی ہیں۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب کو علاج کے طور پر استعمال کرنے سے منع ہی نہیں فرمایا ہے بلکہ اسے بیماری قرار دیتے ہوئے ابتدا میں اس کے لیے استعمال ہونے والے برتنوں سے بھی منع فرما دیا۔ (أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَیْدٍ الْجُعْفِیَّ (رض) سَأَلَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنِ الْخَمْرِ فَنَہَاہُ أَوْ کَرِہَ أَنْ یَصْنَعَہَا فَقَالَ إِنَّمَا أَصْنَعُہَا للدَّوَاءِ فَقَالَ إِنَّہُ لَیْسَ بِدَوَاءٍ وَلَکِنَّہُ دَاءٌ )[ رواہ مسلم : کتاب الاشربہ، باب تحریم التداوی بالخمر] ” طارق بن سوید جعفی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شراب کے متعلق سوال کیا تو آپ نے اسے پینے سے منع کیا یا ناپسند کیا تو اس نے کہا کیا میں اسے بطور دوا استعمال کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا یہ دوا نہیں بلکہ بیماری ہے۔“ (ٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) عَنْ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ الْخَمْرَ وَالْمَیْسِرَ وَالْکُوبَۃَ وَقَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ)[ رواہ احمد] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر شراب، جوا اور شترنج کو حرام کردیا ہے مزید فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“ (عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا أَسْکَرَ کَثِیرُہُ فَقَلِیلُہُ حَرَامٌ) [ رواہ الترمذی : باب الاشربہ] ” حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کی کثیر مقدار حرام ہو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہوتی ہے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ لَعَنَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِی الْخَمْرِ عَشْرَۃً عَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَشَارِبَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃُ إِلَیْہِ وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَآکِلَ ثَمَنِہَا وَالْمُشْتَرِی لَہَا وَالْمُشْتَرَاۃُ لَہُ)[ رواہ الترمذی : کتاب البیوع، باب النہی ان یتخذ الخمر خلا ] ” حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شراب کے متعلق دس آدمیوں پر لعنت کی ہے۔ ١۔ شراب نچوڑنے والا۔ ٢۔ نچڑوانے والا۔ ٣۔ لینے والا۔ ٤۔ اٹھانے والا۔ ٥۔ جس کے لیے لے جائی جائے۔ ٦۔ پلانے والا ٧۔ بیچنے والا۔ ٨۔ اس کی قیمت کھانے والا۔ ٩۔ خریدنے والا۔ ١٠۔ جس کے لیے خریدی جائے۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُتِیَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَہُ بِجَرِیدَتَیْنِ نَحْوَ أَرْبَعِینَ قَالَ وَفَعَلَہُ أَبُو بَکْرٍ فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ اسْتَشَار النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخَفَّ الْحُدُودِ ثَمَانِینَ فَأَمَرَ بِہِ عُمَرُ (رض) [ رواہ مسلم : کتاب الحدود، باب حد الخمر] ” حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص لایا گیا جس نے شراب پی ہوئی تھی۔ آپ نے اسے دو چھڑیوں سے چالیس ضربیں لگائیں۔ اور حضرت ابو بکر (رض) نے اپنے دور خلافت میں بھی ایسا ہی کیا۔ پھر حضرت عمر (رض) کا دور خلافت آیا تو انھوں نے اس بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے کہا کہ سب حدوں میں سے ہلکی حد اسّی کوڑے ہیں۔ (یعنی حد قذف جو قرآن میں مذکور ہے) حضرت عمر (رض) نے شرابی کے لیے اسّی کوڑوں کی حد کا حکم دیا۔“ میسر : ہر وہ عقد جس کی رو سے ہارنے والا جیتنے والے کو ایک معین اور پہلے سے طے شدہ رقم ادا کرے اس کو میسر کہتے ہیں، یہ ” یسر“ سے ہے جس کا معنی آسانی ہے۔ اسے عرف میں جوا کہتے ہیں جوئے کے ذریعے جیتنے والے فریق کو ہارنے والے فریق کی رقم آسانی سے مل جاتی ہے۔ اس لیے اس کو میسر کہتے ہیں۔ ازلام : تیروں کی شکل میں پتلی پتلی لکڑیاں، ان سے زمانۂ جاہلیت میں قسمت کا حال اور شگون لیا کرتے اور فال نکالتے تھے۔ جس کے ہر دور میں کئی طریقے اختیار کیے جاتے رہے ہیں جیسا کہ آج کے زمانے میں طوطے کو سکھلا کر اس سے کاغذ کی پرچیاں اٹھوائی جاتی ہیں۔ (عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ إِنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَمَّا قَدِمَ أَبَی أَنْ یَدْخُلَ الْبَیْتَ وَفِیہِ الْآلِہَۃُ فَأَمَرَ بِہَا فَأُخْرِجَتْ فَأَخْرَجُوا صورَۃَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ فِی أَیْدِیہِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَاتَلَہُمْ اللّٰہُ أَمَا وَاللّٰہِ لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّہُمَا لَمْ یَسْتَقْسِمَا بِہَا قَطُّ فَدَخَلَ الْبَیْتَ فَکَبَّرَ فِی نَوَاحِیہٖ وَلَمْ یُصَلِّ فیہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الحج، باب من کبر فی نواحی الکعبۃ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں بلاشبہ جب رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم میں آئے تو کعبہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہاں بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں نکالنے کا حکم دیا۔ ان کو نکال دیا گیا۔ لوگوں نے حضرت ابراہیم اور اسماعیل ( علیہ السلام) کے مجسمیجن کے ہاتھوں میں تیر تھے، اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے اللہ کی قسم! یہ جانتے تھے کہ یہ ان کی قسمت کا حال کبھی نہیں بتا سکتے۔ تب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے آپ نے اس کے کو نوں میں تکبیر کہی اور وہاں نماز نہ ادا کی۔“ انصاب : بتوں کے پاس نصب شدہ پتھر جن کی عبادت کی جاتی تھی اور بتوں کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان پر جانور ذبح کیے جاتے تھے۔ (المفردات ج ٢ ص : ٦٣٨) رجس : جو چیز حسًا یا معنًا گندی اور ناپاک ہو، انسان کی طبیعت اس سے گھن کھائے یا عقل اس کو برا جانے یا شریعت نے اس کو ناپاک قرار دیا ہو وہ رجس اور حرام ہے۔ مسائل ١۔ شراب، جوا، وغیرہ شیطانی کام ہیں۔ ٢۔ شیطانی کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ٣۔ دنیا و آخرت کی کامیابی برے کاموں سے بچنے میں ہے۔ ٤۔ شیطان اپنے افعال سے مسلمانوں کو باہم لڑاتا ہے۔ ٥۔ شراب اور جوا نماز اور ذکر الٰہی سے روکتے ہیں تفسیر بالقرآن شراب کے مسائل : ١۔ شراب کا نقصان فائدہ سے زیادہ ہے۔ (البقرۃ: ٢١٩) ٢۔ شراب پینا شیطانی عمل ہے۔ (المائدۃ : ٩٠) ٣۔ شراب اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روکتی ہے۔ (المائدۃ: ٩١) ٤۔ شراب حرام ہے اس کے پینے سے بچنا چاہیے۔ (المائدۃ : ٩٠)