سورة النصر - آیت 1

إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہو جائے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سورۃ الکافرون میں حکم ہوا کہ کفار کے سامنے کھلے الفاظ میں اعلان فرما دیں کہ تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ لہٰذا جو چاہو کرلو میں کبھی تمہارے معبودوں کی عبادت نہیں کروں گا، سورۃ النصر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خوشخبری دی گئی ہے کہ یہ دین ہر صورت غالب اور کامیاب ہو کر رہے گا۔ یاد رہے کہ یہ سورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات سے تقریباً تین ماہ پہلے نازل ہوئی جس میں آپ کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم الشان اور بے مثال جدوجہد کو تاریخی حساب سے دیکھا جائے تو آپ کی جدوجہد کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، ایک نبوت کے آغاز سے لے کر بدر کے معرکہ تک کا دور ہے، اس دور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں پر بے انتہا مظالم ڈھائے گئے اور آپ کے راستے میں ہر قسم کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جس بنا پر دعوت کی قبولیت میں وہ تیز رفتاری پیدا نہ ہوسکی جو اس کے بعد پیدا ہوئی، بے شک بدر کے معرکے کے بعد مسائل اور مشکلات نے ایک نیارُخ اختیار کرلیا تھا مگر پہلے اور دوسرے دور میں فرق یہ تھا کہ مکہ میں کفار سے لڑنے کی اجازت نہ تھی لیکن مدینہ میں کفار کے مقابلے میں قتال فی سبیل اللہ کی اجازت تھی، اس لیے بدر، احد اور خندق کے معرکے پیش آئے اور بالآخر مکہ اس طرح فتح ہوا کہ آپ کے مقابلے میں کسی نے آنے کی جرأت نہ کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دس ہزار مجاہدین کا لشکر لے کر مکہ کے قریب فروکش ہوئے، حکم دیا کہ رات کے وقت پہاڑوں کی چوٹیوں پر مکہ کے چاروں طرف آگ جلائی جائے تاکہ مکہ والوں کو یہ معلوم ہو کہ اب وہ ہر جانب سے گھر چکے ہیں۔ تفصیلات جاننے کے لیے سیرت کی کتب کی طرف رجوع فرمائیں۔ واقعات کا اختصار یہ ہے کہ صبح کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لشکر کو چند حصوں میں تقسیم فرما کر خالدبن ولید اور کچھ صحابہ کو لشکر کی قیادت پر مامور کیا اور حکم فرمایا کہ جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوجائے اسے امان دی جائے، جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو اسے کچھ نہ کہا جائے، جو اپنے گھر کے دروازے بند کرلے اس پر بھی ہاتھ نہ اٹھایا جائے اور جو مکہ سے بھاگ نکلے اس کا بھی تعاقب نہ کیا جائے۔ چار آدمیوں کے سوا جو بھی امان چاہیے اسے پناہ دے دی جائے۔ اس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم میں داخل ہوئے، اور حرم کے صحن میں قدم رکھنے سے پہلے حکم صادر فرمایا کہ تمام بتوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیا جائے۔ ( رواہ البخاری : باب وقل جاء الحق وزھق الباطل) اس کے بعد حرم میں داخل ہوئے اور پھر سیڑھی منگوا کر بیت اللہ کے اندر جا کر دیواروں کے ساتھ لگے ہوئے بتوں کو توڑا اور دونفل ادا کیے۔ جب بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو سرداران قریش سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ بتاؤ! آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ انہوں نے رحم کی اپیل کی۔ آپ نے ” لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ“ کے الفاظ استعمال فرماکر عام معافی کا اعلان فرما دیا، مکہ کی فتح سے اسلام کے راستے میں تمام رکاوٹیں دورہوگئیں جو لوگ اس انتظار میں تھے کہ کفر اور اسلام کی کشمکش میں کون غالب آتا ہے جونہی انہیں مکہ فتح ہونے کی خبر پہنچی تو وہ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے اس کامیابی کو اس سورت میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ اے نبی! جب ” اللہ“ کی مدد آپہنچے اور آپ کو فتح حاصل ہو اور آپ دیکھیں کہ لوگ فوج در فوج ” اللہ“ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو آپ پہلے سے زیادہ اپنے رب کی تسبیح کیا کریں اور اس کے حضور توبہ واستغفار کریں اور یقین رکھیں کہ آپ کا رب توبہ قبول کرنے والا ہے۔ اس فرمان میں ہر مسلمان کو یہ بات سمجھائی اور بتلائی گئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ انسان کو اس کے مقصد میں کامیاب کرے اور اپنی رحمت سے سرفراز فرمائے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی کامیابی پر اترانے کی بجائے اپنے رب سے اپنی غلطیوں کی بخشش طلب کرے اور اس کا شکربجالائے۔ اس کی تفسیر میں علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے کہ فتح مکہ کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آٹھ رکعات ادا فرمائیں اس لیے مسلمان فوج کسی شہر کو فتح کرے تو فوج کے کمانڈر کو شکرانے کے طور پر آٹھ رکعت ادا کرنی چاہیے۔ حصرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے ایران کا دار الخلافہ مدائن فتح کیا تو انہوں نے سنت رسول پر عمل کرتے ہوئے شکرانے کے طور پر آٹھ نفل ادا کیے۔ ( عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) قَالَتْ مَا صَلَّی النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صَلاَۃً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَیْہِ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ) إِلاَّ یَقُول فیہَا سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی.) (رواہ البخاری : سورۃ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہ) ” حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورۃ نصر نازل ہونے کے بعد جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعاضرور پڑھی۔“ ” سُبْحَانَکَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی“ (عَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ قَالَ قَالَ لِیَ ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ آخِرَ سُورَۃٍ نَزَلَتْ مِنَ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِیعًا قُلْتُ نَعَمْ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ) قَالَ صَدَقْتَ) (رواہ مسلم : کتاب التفسیر) ” عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے مجھ سے پوچھا کیا تجھے معلوم ہے کہ نزول کے اعتبار سے آخری سورت کون سی ہے۔ میں نے کہا (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّہِ وَالْفَتْحُ) انہوں نے فرمایا تو نے سچ کہا ہے۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ (رض) یُدْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَہُ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَہُ فَقَالَ إِنَّہُ مِنْ حَیْثُ تَعْلَمُ فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ہَذِہِ الآیَۃِ (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللہِ وَالْفَتْحُ) فَقَالَ أَجَلُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَعْلَمَہُ إِیَّاہُ فَقَالَ مَا أَعْلَمُ مِنْہَا إِلاَّ مَا تَعْلَمُ.) (رواہ : باب مَرَضِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَوَفَاتِہِ) ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ عمربن خطاب، عبداللہ بن عباس (رض) کو اپنے قریب قریب رکھتے تھے۔ عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ان سے کہا کہ ہمارے بھی بیٹے ہیں۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کہ آپ کو اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی پھر حضرت عمر (رض) نے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ) کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آپ کی موت کی اطلاع دی گئی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا جواب سن کر عبد الرحمن بن عوف (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا جو آپ جانتے ہیں وہ میں نہیں جانتا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبردست مدد فرمائی اور آپ کے ہاتھوں مکہ فتح کروایا۔ ٢۔ فتح مکہ کے بعد عرب کے لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوئے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ فتح ہونے پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کثرت کے ساتھ حمد اور توبہ واستغفار کرنے کا حکم دیا۔ ٤۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مہربانی کرنے والا اور توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہ معاف کرنے والا اور ان کی توبہ قبول کرنے والاہے : ١۔ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (التوبہ : ١٠٤) ٢۔ اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٢٢) ٣۔ اللہ غلطیاں معاف کرکے توبہ قبول کرتا ہے۔ (الشورٰی : ٢٥) ٤۔ اللہ ہر توبہ کرنے والے کو معاف فرما دیتا ہے۔ (طٰہٰ: ٨٢) ٥۔ ” اللہ“ گناہ معاف کرنے اور توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ (المومن : ٨) ٦۔ غلطی کی اصلاح کرنے والوں کی اللہ توبہ قبول کرتا ہے۔ (البقرۃ: ١٦٠) (المزمل : ٢٠) (الحجرات : ١٢) ٧۔ جس نے ظلم کرنے کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کی، اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ (المائدۃ: ٣٩) ٨۔ جو گناہ کرنے کے بعد جلد توبہ کرلیتے ہیں اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ (النساء : ١٧)