سورة المعارج - آیت 36

فَمَالِ الَّذِينَ كَفَرُوا قِبَلَكَ مُهْطِعِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پس اے نبی ان لوگوں کو کیا ہے کہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں کو جنت کی خوشخبری سنانے پرکفار کا رد عمل۔ مکی دور میں اسلام کے مخالفوں کا یہ خیال بلکہ یقین تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت قبولیت عامہ نہیں پاسکے گی۔ اسی بنا پر اسلام اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانتے اور ان الفاظ کے ساتھ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ ” جب یہ لوگ آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہاں یہ شخص ہے جسے ” اللہ“ نے رسول بنا کربھیجا ہے ؟“ (الفرقان : ٤١) (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَعْلَمَ بالشّٰکِرِیْنَ) (الانعام : ٥٣) ” اور اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو دوسرے کے ساتھ آزمائش میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں؟“ اس کسم پرسی کے دور میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گئی کہ جن میں یہ اوصاف پائے جائیں گے وہ جنت میں عزت و اکرام کے ساتھ رکھے جائیں گے۔ جونہی یہ خوشخبری نازل ہوئی تو کفار کی حالت یہ تھی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دوڑتے ہوئے آئے اور آپ کے دائیں بائیں جمع ہو کر اس بات کا دعویٰ کرنے لگے کہ ہم مسلمانوں سے دنیا میں بہتر ہیں اور آخرت میں بھی بہتر ہوں گے اور جنت میں ضرور داخل ہوں گے۔ کفار کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا کہ وہ جنت میں داخل ہوں، بے شک ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہ جنت میں داخل ہوگا۔ مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم! ہم اس بات پر طاقت رکھتے ہیں کہ انہیں تہس نہس کرکے ان کی جگہ دوسرے لوگ لے آئیں اور یہ کسی صورت بھی ہمیں عاجز نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر مشرقوں اور مغربوں کا نام لے کر اپنے رب ہونے کی قسم کھائی ہے۔ سورۃ المزمل میں ایک مشرق اور ایک مغرب کا ذکر ہے۔ ( المزمل : ٩) سورۃ الرّحمن میں میں دو مشرقوں اور دو مغربوں کابیان ہے اور یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ سورۃ الرّحمن میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ سورج نہ ہر روز ایک مقام سے طلوع ہوتا اور نہ ایک مقام پر غروب ہوتا ہے بلکہ ہر روز سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے مقام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ (الرحمن : ١٧) اس حساب سے دو مشرق اور دو مغرب نہیں بنتے بلکہ کئی مشرق اور کئی مغرب بنتے ہیں اس لیے یہاں کئی مشرقوں اور کئی مغربوں کی قسم اٹھائی گئی ہے۔ مسائل ١۔ کفار دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ ٢۔ مشرقوں اور مغربوں کا رب اس بات پر قادر ہے کہ کفار کو ختم کرکے ان کی جگہ اور لوگ لے آئے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کام کرنے پر قادر ہے اسے کوئی بے بس اور عاجز نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے (البقرۃ: ٢٠) ٢۔ اللہ آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (آل عمراٰن : ٢٩) ٣۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں قیامت کے دن جمع فرمائے گا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ١٤٨) ٤۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے معاف کردے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (البقرۃ: ٢٨٤)