سورة الملك - آیت 6

وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جن لوگوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ہے ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور جہنم بہت ہی برا ٹھکانا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : شیاطین جن میں سے ہوں یا انسانوں سے ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے۔ جو لوگ شیاطین کا کردار اختیار کرتے ہیں، حقیقت میں وہ اپنے رب کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ ان کے لیے جہنم تیار کی گئی ہے جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ جہنم کی آگ اس قدر جوش مار رہی ہوگی کہ اس سے مختلف قسم کی خوفناک آوازیں نکلیں گی۔ دیکھنے اور سننے والوں کو یوں لگے گا جیسے جہنم اپنے جوش اور زور سے پھٹ جائے گی۔ جب جہنمی کو گروہ در گروہ جہنم میں ڈالا جائے گا تو جہنم کے داروغے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس جہنم سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے ؟ جہنمی اقرار کریں گے کیوں نہیں ! ہمارے پاس ڈرانے والے آئے تھے لیکن ہم نے انہیں جھٹلایا اور کہا کہ تم سب کچھ اپنی طرف سے کہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بات نازل نہیں کی، یہاں تک کہ ہم نے انہیں یہ بھی کہا کہ تم خود کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو، جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوں گے تو آہ و بکا کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش! ہم ڈرانے والوں کی بات توجہ سے سنتے اور اس پر غور کرتے اور آج جہنمیوں میں شامل نہ ہوتے۔ باربار اپنے گناہوں کا اعتراف کرنے کے با وجود وہ اللہ کی رحمت سے دور رہیں گے ان کے لیے جہنم سے نجات کی کوئی صورت نہیں ہوگی، کیونکہ وہ اپنے رب کے ساتھ کفر و شرک کیا کرتے تھے۔ یاد رہے کہ ہدایت پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اللہ اور اس کے رسول کی بات کو توجہ سے سنے اور اس پر غوروفکر کرے تاکہ وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوجائے، ہدایت پانے کے لیے یہ شرط ہے۔ (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ) (قٓ: ٣٧) ” اس میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو بات کو توجہ سے سننے والا ہو۔“ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے فرمان پر توجہ نہیں دیتے، قرآن مجید نے انہیں چوپاؤں سے بدتر قرار دیا ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ) (الاعراف : ١٧٩) ” اور بلاشبہ ہم نے بہت سے جن اور انسان جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں یہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں بلکہ زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں یہی ہیں جو بالکل غافل ہیں۔“ (الاعراف : ١٧٩) (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ أُوقِدَ عَلَی النَّارِ أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی احْمَرَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی ابْیَضَّتْ ثُمَّ أُوقِدَ عَلَیْہَا أَلْفَ سَنَۃٍ حَتَّی اسْوَدَّتْ فَہِیَ سَوْدَاءُ مُظْلِمَۃٌ) ( رواہ الترمذی : کتاب صفۃ جہنم) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ کی آگ کو بھڑکا یا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا تو وہ سفید ہوگئی پھر اس کو ایک ہزار سال تک جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی اب اس کا رنگ سیاہ ہے۔“ (اِِنَّہَا تَرْمِی بِشَرَرٍ کَالْقَصْرِ) (المرسلات : ٣٢) ” اس آگ کے محلات جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی۔“ مسائل ١۔ جوش کی وجہ سے جہنم کی آگ سے مختلف قسم کی آوازیں نکلیں گی۔ ٢۔ جہنم کی آگ میں اس قدر تیزی اور جوش ہوگا کہ دیکھنے والے کو یوں لگے گا جیسے جہنم ابھی پھٹ جائے گی۔ ٣۔ جہنم کے داروغوں کے سوال کے جواب میں جہنمی اعتراف کریں گے کہ ہمارے پاس جہنم سے ڈرانے والے آئے تھے۔ ٤۔ جہنمی لوگ دنیا میں انبیاء اور علماء کو گمراہ قرار دیتے تھے۔ ٥۔ جہنمی اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش! ہم جہنم سے ڈرانے والوں کی بات کو توجہ سے سنتے اور اس پر غور کرتے۔ ٦۔ کفار اور مشرکین اپنے رب کی رحمت سے ہمیشہ ہمیش کے لیے دور ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن عقل وفکر کی حیثیت اور جہنمی کا اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا : ١۔ حق پہچاننے کے لیے آفاق پر غور کرنے کی دعوت۔ (حٰمٓ السجدۃ: ٥٣) ٢۔ اپنی ذات پر غور وفکر کی دعوت۔ (الذاریات : ٢١) ٣۔ رات کے سکون پر غور کرنے کی دعوت۔ (القصص : ٧٢) ٤۔ دن رات کے بدلنے میں غور و خوض کی دعوت۔ (المومنون : ٨٠) ٥۔ شہد کی بناوٹ پر غور کرنے کی دعوت۔ (النحل : ٦٩) ٦۔ ہم نے بابرکت کتاب نازل کی تاکہ لوگ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور نصیحت حاصل کریں۔ (ص : ٢٩) ٧۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جہنمیوں سے فرمائے گا کیا آج کا عذاب برحق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ (الاحقاف : ٣٤) ٨۔ ہر جہنمی کی خواہش ہوگی کہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔ (الانعام : ٢٧ تا ٢٨) ٩۔ اے رب ہمارے! ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : ٣٧) ١٠۔ اے رب ہمارے! ہم کو یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المؤمنون : ١٠٧)