سورة الحديد - آیت 8

وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی طرف بلا رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم ماننے والے ہو

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ کا تمام لوگوں کو حکم ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائیں لیکن لوگوں کی غالب اکثریت کی یہ حالت رہی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی بجائے انکار اور تکذیب کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول تمہیں بار بار اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے، تمہارے لیے ایمان لانا اس لیے بھی لازم ہے کہ تم ” اللہ“ سے عہد کرچکے ہو۔ اس سے پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے لیکن اس آیت میں یوں ارشاد ہوا کہ آخر تم اللہ پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ حالانکہ رسول تمہیں اس پر ایمان لانے کے دعوت دے رہا ہے۔ پہلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا حکم تھا۔ اس آیت میں صرف اللہ پر ایمان لانے کا ارشاد ہوا ہے جو تمہارا رب ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان اور اسلام میں پہلی اور مرکزی بات اللہ پر ایمان لانا اور اس کے تقاضے پورے کرنا ہے۔ جن میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ ” اللہ“ پر اس طرح ایمان لایا جائے جس طرح اس کے رسول نے بتلایا اور عمل کرکے دکھلایا ہے۔ اس لیے قرآن مجید کے کئی مقامات پر صرف اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے جس میں ایمان کے تمام اجزاشامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر اس لیے ایمان لانا ہے کیونکہ اس نے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور عوام الناس سے عہد لے رکھا ہے جس کی یاددہانی یہ کہہ کر کروائی گئی کہ اگر تم اس عہد کو مانتے ہو تو پھر اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ آیت کے پہلے حصہ میں اللہ پر ایمان لانے کا حکم ہے اور اس کے بعد رب پر ایمان لانے کا ارشاد ہوا ہے۔ لفظ اللہ کی بجائے رب کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ اگر انسان کو حقیقی علم اور یقین حاصل ہوجائے کہ اللہ کا دوسرا عظیم نام ” رب“ ہے اور وہی میرا خالق، مالک، رازق اور بادشاہ ہے اس کے بعد انسان اپنے ” اللہ“ کے ساتھ کبھی کفر و شرک نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ایمان قابل قبول ہے جو اس کے رسول نے بتلایا۔ (وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَ اَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی شَہِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ) (الاعراف : ١٧٢) ” اور جب آپ کے رب نے آدم کے بیٹوں سے ان کی پشتوں میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود ان کی جانوں پر گواہ بنایا۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں ہم گواہی دیتے ہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو بے شک ہم اس سے غافل تھے۔“ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلَّا قَالَ لَاإِیْمَانَ لِمَنْ لَّآ أَمَانَۃَ لَہٗ وَلَادِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہٗ) (مسند احمد، ٣١: مسند انس بن مالک، ھذا حدیث حسن صحیح) ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جب کبھی بھی خطبہ ارشاد فرمایا تو یہ الفاظ ضرور ادا فرمائے کہ اس کا ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور اس کا دین نہیں جو وعدے کا پاسدار نہیں۔“ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ) (رواہ مسلم : باب تحریم الغدر) ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی مقعد کے نزدیک جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا، جو اس کی عہد شکنی کے بقدر بلند کیا جائے گا۔ خبردار! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔“ مسائل ١۔ لوگوں کو ہر صورت اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا چاہیے۔ ٢۔ وعدے کا پورہ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ تفسیر بالقرآن ایمان کی مبادیات : ١۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا۔ (البقرۃ: ٣) ٢۔ پہلی کتابوں پر مجموعی طور پر اور قرآن مجید پر کلی طور پر ایمان لانا۔ (البقرۃ: ٤) ٣۔ اللہ، ملائکہ، اللہ کی کتابوں، اور اس کے رسولوں پر ایمان لانا۔ (البقرۃ: ٢٨٥) ٤۔ صحابہ کرام جیسا ایمان لانا فرض ہے۔ ( البقرۃ: ١٣٧)