سورة ق - آیت 1

ق ۚ وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

قٓ، قسم ہے قرآن مجید کی

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط سورت :” ق“ حروف مقطعات میں شامل ہے۔ بعض اہل علم نے غیر مستند روایات کے حوالے سے اس کا مطلب بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (علیہ السلام) سے اس کا کوئی معنٰی ثابت نہیں۔ لہٰذا اسے اس طرح ہی تلاوت کرنا چاہیے۔ القرآن سے پہلے واؤ کا حرف قسم کے لیے ہے۔ عربی زبان میں حرف واؤ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ان میں واؤ قسم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ قرآن کا معنٰی ہے یکجا کرنا، تلاوت کرنا، الفاظ پر غور کر کے زبان سے ان کی ادائیگی کرنا، الفاظ کا ” تتبُّع“ کرنا۔ (المنجد) المجید کا معنٰی بڑا اور عزت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی قسم دے کر ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کیا انہی سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا ہے جو ان کو ڈراتا ہے۔ کفّار اس بات پر بھی تعجب کا اظہار کرتے اور کہتے ہیں کہ کیا ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں زندہ کیا جائے گا ؟ یہ بات عقل سے بعید نظر آتی ہے۔ کیونکہ زمین مرنے والوں کو کھا جاتی ہے اور مرنے والا مٹی کے ساتھ مٹی بن جاتا ہے۔ کفار کی تکذیب اور تعجب کی تردید کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہمیں نہ صرف اس بات کا پوری طرح علم ہے کہ انسان کے وجود سے زمین کیا کھاتی ہے اور کیا بچائے رکھتی ہے۔ ہم نے اپنے پاس ہر چیز کا انداج بھی کر رکھا ہے۔ مر کرجی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے تعجب انہیں اس بات پر ہونا چاہیے کہ ان کے پاس حق آچکا ہے لیکن اس کے باوجود یہ انکار کررہے ہیں۔ یہ بات فہم القرآن میں پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ قرآن مجید کی دعوت کے بنیادی ارکان تین ہیں۔ اللہ کی توحید، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آخرت پر ایمان لانا۔ کفار مختلف انداز اور الفاظ میں قرآن مجید کی دعوت کے تینوں اجزاء کا انکار کرتے تھے اور کرتے ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کی دعوت کفار کے سامنے پیش کی اور دعوت کا انکار کرنے والوں کو آخرت کے انجام سے ڈرایا۔ جس پر انہوں نے تعجب کا اظہار کیا اور آپ کی رسالت کا انکار کیا۔ اس سے پہلے ان کے آخرت کے بارے میں کفار کے تعجب اور انکار کا یہ کہہ کرجواب دیا ہے کہ جہاں تک کفار کی اس بات کا تعلق ہے کہ ہم مٹی کے ساتھ مٹی ہوجائیں گے تو پھر ہمیں کون اٹھائے گا انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مٹی کے ایک ذرے ذرے سمیت ہر ایک چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس لوح محفوظ میں ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ یہ لوگ مر کرجی اٹھنے پر تعجب کرنے کی بجائے یہ نہیں سوچتے کہ جس خالق نے انہیں اس مٹی سے پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا؟ کیوں نہیں وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرے گا کیونکہ وہ زمین کے ذرے ذرے کو جانتا ہے اور ہر ذرّے پر اسے اختیار اور اقتدار حاصل ہے پھر اس کے پاس ہر چیز کا اندراج بھی موجود ہے۔ کفار کو تعجب اس بات پر کرنا چاہیے کہ ان کے پاس حق پہنچ چکا ہے لیکن پھر بھی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان کی الجھن کا اب کوئی جواز نہیں ہے۔ ” مَرِیْجٍ“ سے مراد ایسا شک جو انسان کو ہمیشہ ذہنی کشمکش میں مبتلا کیے رکھے۔ یاد رہے کہ انسان کا وجود دوچیزوں پر مشتمل ہے ایک روح جس کی بنیاد پر انسان چلتا پھرتا، اٹھتا، بیٹھتا کھاتاپیتا آرام اور کام کرتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انسان مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی روح باقی رہتی ہے جس کا ٹھکانہ ” عِلِّیِّیْنَ“ یا ” سِجِّیْنٌ“ میں ہوتا ہے۔ ” عِلِّیِّیْنَ“ وہ رجسٹر ہے جس میں جنتی رحوں کا اندراج ہوتا ہے۔ ” سِجِّیْنٌ“ سے مراد وہ رجسٹر یا مقام ہے جہاں جہنمیوں کی ارواح کو رکھا جاتا ہے۔ جہاں تک انسان کے جسم کا تعلق ہے یہ بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ اس میں ایک ذرہ (SELL) باقی رہتا ہے جس سے قیامت کے دن اس کے وجود کی ابتدا ہوگی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔ قَالَ وَلَیْسَ مِنَ الْاِنْسَانِ شَیْءٌ لَا یَبْلٰی اِلَّاعَظْمًا وَاحِدًا وَّھُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْہُ یُرَکَّبُ الْخَلْقُ یَوْمَ الْقِیَا مَۃِ) (رواہ مسلم : باب مَا بَیْنَ النَّفْخَتَیْنِ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان کی دمچی کے علاوہ ہر چیز ختم ہوجاتی ہے۔ قیامت کے دن دمچی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔ ” حضرت برا بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ انصار کے کسی آدمی کے جنازہ کے لیے نکلے۔ ہم قبرستان پہنچے تو قبر کھودی نہیں گئی تھی۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے جیسے ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی آپ اس کے ساتھ زمین کرید رہے تھے آپ نے سر اٹھاتے ہوئے دو یا تین مرتبہ فرمایا قبر کے عذاب سے پناہ مانگو پھر فرمایا۔۔“ (رواہ احمد : مسند براء بن عازب (رض)، قال الشیخ البانی ہذا حدیث صحیح) مسائل ١۔ قرآن ہر حوالے سے عظیم کتاب ہے۔ ٢۔ کفار نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور آپ کی دعوت پر تعجب کا اظہار کرتے تھے۔ ٣۔ کفار مر کرزندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔ ٤۔ اہل مکہ کی طرف حق پہنچ چکا تھا لیکن پھر بھی وہ الجھن میں پڑے رہے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا اندراج موجود ہے۔ تفسیر بالقرآن مرنے کے بعد زندہ ہونے کے ثبوت : ١۔ تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ (الرعد : ٥) ٢۔ اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے گا پھر اس کی طرف ہی لوٹائیں جائیں گے۔ (الانعام : ٣٦ ) ٣۔ لوگوں لوہا بن جاؤ یا پتھر اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور زندہ کرے گا۔ ( بنی اسرائیل : ٥٠، ٥١) ٤۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام کو اٹھائے گا اور ہر کسی کو اس کے اعمال کے متعلق بتلائے گا۔ (المجادلۃ: ٦) ٥۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے مقتول کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ: ٧٣) ٦۔ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ: ٢٥٩) ٧۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں چار پرندوں کو زندہ فرمایا۔ (البقرۃ : ٢٦٠) ٨۔ اصحاب کہف کو تین سو سال کے بعد اٹھایا۔ (الکہف : ٢٥) ٩۔ مزید حوالوں کے لیے دیکھیں : (البقرۃ: ٢٤٣) (الاعراف : ١٥٥) (المائدۃ : ١١٠)