سورة آل عمران - آیت 164

لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بے شک مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ انہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اکثریت کی رائے کا احترام کرنا، ساتھیوں کی غلطیوں کو معاف کردینا۔ انسان کو شرف انسانیت سے سرفراز فرمانا‘ توحید کی دولت سے مالا مال کرنا اور بھٹکتے ہوئے انسان کو کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات اور قیادت کا کمال ہے جسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر بطور احسان ذکر فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر اس قدر احسانات فرمائے ہیں کہ وہ ان کا شمار کرنا چاہے تو جدید مشینری کے ذریعے بھی انہیں شمار نہیں کرسکتا۔ تمام احسانات و انعامات میں سب سے بڑا احسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور رہنمائی ہے۔ دنیا میں ہدایت کا مؤثر‘ مدلل‘ قابل اعتماد اور براہ راست ذریعہ انبیاء کی شخصیات ہوا کرتی تھیں۔ ان شخصیات میں سب سے ممتاز شخصیت رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے جنہوں نے انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لیے سب سے بڑھ کر کوششیں اور تکلیفیں اٹھائیں ہیں۔ اس لیے مومنوں کو یہ احسان جتلایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص احسان ہے کہ اس نے تم ہی سے یعنی انسانوں میں سے ایک ایسا رسول مبعوث فرمایا ہے جو تمہارے اپنے آپ سے بھی تم پر زیادہ مہربان اور درگزر کرنے والا ہے۔ اس کی شب و روز کی محنتیں، صبح و شام کی دعائیں اور ہر وقت یہ تمنا اور خواہش ہوتی ہے کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائے، گناہوں اور جرائم سے پاک کرے اور تمہیں کتاب و حکمت کے ذریعے دنیا و آخرت کی ترقیوں سے سرفراز کرے۔ نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری اور آپ کی تعلیمات سے پہلے تم سراسر گمراہی اور جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے۔ آپ کی کوششوں اور محبت و اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج انسانیت نے اپنا مقام پایا، غلاموں کو آزادی نصیب ہوئی‘ عورتوں کو حقوق ملے اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا طریقہ اور دنیا میں رہنے سہنے کا سلیقہ آیا۔ یہ دنیا کی مسلمہ حقیقت ہے کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے انسانیت ہر قسم کی جہالت اور تاریکی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی تھی۔ خصوصاً عرب اور مکہ کی حالت یہ تھی کہ یہاں کے دانشور اس سوچ میں غلطاں تھے کہ ہم تاریکیوں سے کس طرح نجات پائیں۔ اسی کے نتیجے میں حلف الفضول کا معاہدہ طے پایا جس میں اہل دانش نے بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ معاشرے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کا تدارک اس انداز میں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ (ابن ہشام) اسی سلسلہ کی دوسری کڑی یہ تھی کہ ایک موقع پر ورقہ بن نوفل‘ زید بن عمرو اور چند دوسرے لوگ حرم میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ تمام مروجہ مذاہب کا جائزہ لے کر طے کیا جائے کہ کونسا مذہب سچا ہے؟ اس کے لیے یہ بزرگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے نتیجے میں ورقہ بن نوفل عیسائیت کے قریب ہوئے اور کچھ نے یہودیت کو مناسب سمجھا۔ لیکن حضرت زید بن عمرو نے سب سے براءت کا اعلان کیا۔ چنانچہ وہ بیت اللہ میں سجدہ ریز ہو کر زاروقطار روتے ہوئے دعا کیا کرتے تھے کہ اے کعبہ کے رب! اگر مجھے معلوم ہوجائے کہ تیری عبادت اس طرح کرنی ہے تو میں اس طرح کرنے کو تیار ہوں لیکن آسمانی ہدایت مفقود ہوجانے کی وجہ سے وہ دین کی روشنی سے محروم رہے تاہم ایک سوال کے جواب میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے بارے میں فرمایا تھا (نَعَمْ إِنَّہٗ یُبْعَثُ أُمَّۃً وَّاحِدَۃً) کیوں نہیں! وہ ایک امت کی حیثیت سے اٹھایا جائے گا۔ (ابن ہشام) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد سے قبل کی جہالت اور تاریکی کی نشاندہی کرتے ہوئے حضرت علی (رض) کے برادر مکرم حضرت جعفر (رض) بن ابی طالب نے حبشہ کے حکمران نجاشی کے سامنے اس کا یوں اعتراف کیا تھا کہ ہم گمراہ تھے، ہمارے اندر ہر قسم کے گناہ اور جرائم پائے جاتے تھے ہم ایک دوسرے پر ظلم کرنے والے تھے پس اللہ نے ہم میں ایک شخص کو نبی بنایا جس کو ہم ہر لحاظ سے جانتے ہیں اس نے ہماری اصلاح اور تربیت کی جس کے نتیجے میں ہم مسلمان ہوئے۔ (ابن ہشام) اسی کے بارے میں قرآن حکیم نے (وَإِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ) کے الفاظ استعمال کرتے ہوئے آپ کی بعثت کو احسان عظیم قرار دیا ہے۔ مسائل ١۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث فرماکر اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ ٢۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا مقصد لوگوں کو قرآن سنانا، ان کی تربیت کرنا اور ان کو کتاب و دانشمندی سکھانا ہے۔ ٣۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے لوگ واضح گمراہی میں تھے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے احسانات : ١۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور احسان ان گنت ہیں۔ (ابراہیم : ٣٤) ٢۔ ایمان نصیب ہونا اللہ کے احسان کا نتیجہ ہے۔ (الحجرات : ١٦) ٣۔ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) ٤۔ کمزوروں کو خلافت دینا اللہ کا احسان ہے۔ (القصص : ٥) ٥۔ اللہ جس پر چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔ (ابراہیم : ١١)