سورة فاطر - آیت 41

إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی انہیں تھامنے والا نہیں ہے، بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : زمین و آسمان کی تخلیق میں شریک ہونا تو درکنار، ان کے قائم رکھنے میں بھی کسی کا عمل دخل نہیں ہے۔ یقین جانو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی زمین و آسمانوں کو پیدا فرمایا اور وہی انہیں تھامے ہوئے ہے۔ تاکہ اپنے مقام سے ہلنے نہ پائیں اگر وہ اپنی جگہ سے ہل جائیں تو پھر کون ہے جو انہیں اسی جگہ پر لے آئے؟ آسمان کو تھامنا تو درکنار، پوری دنیا کے حکمران اور عوام مل کر زمین کوہلنے یعنی زلزلہ سے نہیں بچا سکتے۔ زلزلہ سے بچانا تو دور کی بات ہے ارضیات کے سائنسدان یہ پتہ نہیں چلا سکے کہ زمین میں کہاں اور کب زلزلہ واقع ہوگا۔ تاریخ انسانی میں کتنی بار زلزلہ آیا جس نے چند لمحوں کے اندر نہ صرف انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا بلکہ اس علاقے کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ اب تک نہ ہوا ہے اور نہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی زلزلوں کو روک سکے اس کی قوت و قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حد تک اختیار دے رکھا ہے۔ جس وجہ سے انسان زمین و آسمانوں کے خالق اور مالک کو بھول کراس کی مخلوق میں سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیتا ہے۔ ظلم اور سرکشی کی حد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ انہیں کب اٹھایا جائے گا مشرک انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارتا ہے اور جن قبروں اور مورتیوں کو اپنے ہاتھ سے بناتا ہے۔ انہیں کے سامنے جھکتا ہے اور دنیا میں ایسے جاہل اور ظالم بھی ہیں جو اپنے مقابلے میں حقیر مخلوق سانپ، بچھو اور اس سے بھی کم تر مخلوق کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ زمین کی چھاتی اور آسمان کے سائے تلے ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے باوجود کفر، شرک اور ظلم پر لوگوں کو فی الفور نہیں پکڑتا وہ مہلت پر مہلت دیئے جاتا ہے تاکہ انسان اپنے گناہوں سے تائب ہوجائے۔ یا پھر گناہ کرنے میں اسے کوئی حسرت نہ رہے یہ مہلت اس لیے بھی دی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا، بہت ہی زیادہ معاف کرنے والاہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃ (رض) قَالَ قَال النَّبِی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُول اللَّہُ شَتَمَنِی ابْنُ آدَمَ وَمَا یَنْبَغِی لَہُ أَنْ یَشْتِمَنِی، وَتَکَذَّبَنِی وَمَا یَنْبَغِی لَہُ، أَمَّا شَتْمُہُ فَقَوْلُہُ إِنَّ لِی وَلَدًا وَأَمَّا تَکْذِیبُہُ فَقَوْلُہُ لَیْسَ یُعِیدُنِی کَمَا بَدَأَنِی) [ رواہ البخاری : باب مَا جَاءَ فِی قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَأُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ)] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آدم کا بیٹا مجھے گالیاں دیتا ہے اور یہ اس کے لیے لائق نہیں۔ وہ میری تکذیب کرتا ہے اور یہ بھی اسے زیب نہیں دیتا۔ اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میں نے اولاد بنا رکھی ہے۔ اس کا جھٹلانا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کیا جائے گا جس طرح مجھے پہلی بار پیدا کیا گیا ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ہی زمین و آسمانوں کوتھامے ہوئے ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کو حرکت دے تو انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ ٣۔ یقیناً اللہ تعالیٰ عظیم حوصلے والا اور بڑا ہی معاف کرنے والاہے۔ تفسیر بالقرآن زمین و آسمان کی تخلیق اور ان کی حفاظت : ١۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان بنائے۔ (البقرۃ : ١١٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ (البقرۃ: ٢٩) ٣۔ اس نے آسمان و زمین کو برابر کیا۔ (البقرۃ: ٢٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ نے زمین پر پہاڑ بنائے تاکہ زمین ہل نہ سکے۔ (فاطر : ٤١) ٥۔ آسمان کو چھت اور زمین کو فرش بنایا۔ (البقرۃ : ٢٢) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان کو بغیر ستونوں کے کھڑا کیا۔ ( الرعد : ٢) ٧۔ زمین اور آسمانوں کو چھ دنوں میں بنایا۔ (الاعراف : ٥٤) ٨۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے زمین و آسمان کی تخلیق کے بارے میں سوال کریں گے تو اللہ ہی کا نام لیں گے۔ (لقمان : ٢٥) ٩۔ زمین و آسمان بنانے اور بارش اتارنے والا“ اللہ“ ہے کیا اس کے ساتھ کوئی اور برسانے والا ہے ؟ (النمل : ٦٠) ١٠۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : ٢١)