سورة الشعراء - آیت 185

قَالُوا إِنَّمَا أَنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” انہوں نے کہا اے شعیب سحرزدہ آدمی ہے۔ (١٨٥)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قوم کا حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جواب اور عذاب کا مطالبہ۔ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے وہی زبان اور انداز اختیار کیا جو قوم نوح، قوم ثمود نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے بھی اپنے انبیاء کو سحر زدہ قرار دیا اور عذاب لانے کا مطالبہ کیا یہی انداز قوم شعیب نے اختیار کیا اور کہا اے شعیب (علیہ السلام) ! تجھ پر جادو ہوگیا ہے اس وجہ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ جہاں تک تیرے نبی ہونے کا دعویٰ ہے تو ہمارے جیسا انسان ہے۔ تجھ میں کوئی ایسی خوبی نہیں دکھائی دیتی جس بنیاد پر تجھے نبی تسلیم کرلیا جائے ہم تجھے کذّاب انسان سمجھتے ہیں۔ قوم شعیب سمجھتی تھی کہ نبی بشر نہیں ہوسکتا نبی تو کوئی نورانی مخلوق ہونا چاہیے تھا انھوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے یہ بھی مطالبہ کیا اگر تو دعویٰ نبوت میں سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا یہ تو میرا رب جانتا ہے کہ اس نے کس وقت تک تمھیں ڈھیل دینا ہے اگر اس نے تمھیں عذاب میں گرفتار کرنا ہے تو وہ کس قسم کا عذاب ہوگا۔ قوم شعیب پر اللہ تعالیٰ کا عذاب : قوم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان پر بلاشبہ عذاب عظیم نازل ہوا۔ ( الشعراء : ١٨٩) ظالموں کو ایک کڑک نے آلیا وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے گھر ایسے ویران ہوئے جیسے ان میں کوئی بسا ہی نہ ہو۔ یاد رکھو اہل مدین پر ایسی ہی پھٹکار ہوئی جس طرح قوم ثمود پر پھٹکارکی گئی تھی۔ مفسرین نے لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود پر سات راتیں اور آٹھ دن گرمی اور حبس کا ایسا عذاب مسلط کیا کہ وہ نہ تہہ خانوں میں آرام کرسکتے تھے اور نہ ہی کسی درخت کے سائے تلے ٹھہر سکتے تھے۔ انتہائی کرب کے عالم میں اپنے گھروں سے باہر نکلے تو ایک بادل ان پر سایہ افگن ہوا۔ جب سب کے سب بادل تلے جمع ہوگئے تو بادل سے آگ کے شعلے برسنے لگے۔ زمین زلزلہ سے لرزنے لگی اور پھر ایسی دھماکہ خیز چنگھاڑ گونجی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے اور اوندھے منہ تڑپ تڑپ کر ذلیل ہو کر مرے۔ یہاں قوم شعیب کے واقعہ کا اختتام بھی انہی الفاظ سے ہو رہا ہے جن الفاظ سے پہلی چھ قوموں کا ہوا ہے۔ گویا کہ سات انبیاء ( علیہ السلام) کی جدوجہد اور ان کی اقوام کا ردِّ عمل اور انجام کا ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد ہوا کہ اے پیغمبر! آپ کا رب ہر بات پر غالب اور بڑارحم کرنے والا ہے۔ سمجھانا مقصود یہ ہے کہ پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ان کی اقوام نے معاندانہ رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے انھیں نیست و نابود کردیا گیا۔ مال، افرادی قوت، صنعت و حرفت، چوپائے اور بھیڑبکریاں بڑے بڑے محلات اور سیاسی اقتدار، دنیا کی شان و شوکت اللہ کے غضب کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ ا نھیں بھی اللہ تعالیٰ نے وقت معین تک مہلت دے رکھی اگر آپ کی قوم کو ان کے جرائم کے باوجود مہلت دی جارہی ہے تو اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا رب نہایت ہی رحیم و کریم ہے جس وجہ سے وہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو بار بار موقعہ دیا جائے تاکہ توبہ و استغفار کرسکیں۔ قوم شعیب کے جرائم : ١۔ اہل مدین بھی اپنے پیش رو اقوام کی طرح شک جیسے غلیظ اور بدترین عقیدہ میں مبتلا تھے۔ شرک وہ بیماری ہے ام الامراض کہنا چاہیے۔ قوم مدین میں وہ تمام اخلاقی اور اعتقادی بیماریوں نے جنم لیا، جن میں قوم نوح سے لے کر قوم لوظ کے لوگ ملوث چلے آرہے تھے۔ ام الامراض یعنی شرک کی جڑ کاٹنے کے لیے حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی دعوت کا آغاز دعوت توحید سے کرتے ہیں۔ ( الاعراف : ٨٥) ٢۔ قوم مدین نہ صرف عقیدہ کی خیانت میں مرتکب ہوئی بلکہ گاہک سے پوری قیمت وصول کرنے کے باوجود ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے۔ ادائیگی کے وقت چیز مقررہ وزن اور پیمائش سے کم دیتے لیتے ہوئے طے شدہ وزن سے زیادہ لینے کی مجرمانہ کوشش کرتے۔ ( الاعراف : ٨٥) ٣۔ یہ لوگ پیشہ ور ڈاکو تھے ان کے علاقے سے گزرنے والے مسافروں کی عزت وآبرو اور مال وجان محفوظ نہیں تھے۔ ( الاعراف : ٨٦، ہود : ٨٥) ٤۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی زبردست مخالفت اور نافرمانی کرنے والے تھے۔ ( ہود : ٨٩) مسائل ١۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو سحرزدہ شخص قرار دیا۔ ٢۔ قوم شعیب نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے بشر ہونے کی وجہ سے ان کی نبوت کا انکار کیا۔ ٣۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے قوم نے آسمان کا ٹکڑا گرادینے کا مطالبہ کیا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) پر ان کی اقوام کے الزامات : ١۔ اگر ہم ان کے لیے آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں اور یہ اس میں سے چڑھ جائیں تو کہیں گے ہماری آنکھیں بند کردی گئی ہیں۔ بلکہ ہم پر جادو کردیا گیا ہے۔ (الحجر : ١٤۔ ١٥) ٢۔ آل فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو کا الزام لگایا۔ (القصص : ٣٦) ٣۔ کفار تمام انبیاء کو جادوگر اور دیوانہ قرار دیتے تھے۔ (الذاریات : ٥٢) ٤۔ کفار نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر قرار دیا۔ (الصف : ٦) ٥۔ کفار نے قرآن کو جادو قرار دیا۔ (سبا : ٤٣) ٦۔ کفار نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سحر زدہ یعنی جس پر جادو کردیا گیا ہو بھی قرار دیا۔ (الفرقان : ٨) ٧۔ حضرت نوح کو ان کی قوم نے کہا کہ ہم تمہیں جھوٹا تصور کرتے ہیں۔ (ہود : ٢٧) ٨۔ کفار آپ کو شاعر قرار دیتے تھے۔ (الطور : ٣٠)