سورة الفرقان - آیت 11

بَلْ كَذَّبُوا بِالسَّاعَةِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لِمَن كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيرًا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ قیامت کو جھٹلاتے ہیں جو قیامت کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ (١١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے مطالبہ کا دوسرا جواب۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کفار اس لیے مطالبات پیش کرتے تھے کہ آپ کو الجھایا اور لوگوں کے سامنے لاجواب کیا جائے۔ ان کے مطالبے کی حقیقت یوں بیان کی گئی ہے کہ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے مطالبات اور اعتراضات کا یہ مقصد نہیں کہ وہ آپ پر ایمان لانا چاہتے ہیں۔ ہرگز نہیں بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ آپ کو الجھائیں اور آپ کو لوگوں کے سامنے لا جواب کریں انہوں نے یہ وطیرہ اس لیے اختیار کر رکھا ہے کہ یہ قیامت کو جھٹلا تے ہیں اگر ان کا قیامت پر ایمان ہوتا تو آپ نے جس قدر ان کو سمجھایا ہے یہ آپ پر ایمان لے آتے۔ اب تو ان کے مطالبے کا یہی جواب ہے کہ جس شخص نے قیامت کو جھٹلایا اس کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔ ایسے لوگوں کو آگ دور سے دیکھے گی تو ان کو دیکھ کر آگ کے طیش اور جوش میں اضافہ ہوجائے گا جس وجہ سے آگ سے آوازیں نکلیں گی جو گدھے کی آواز کی مانند ہوں گی جہنم کی آگ کے لیے زَفِیْرًا کا لفظ استعمال کیا ہے زفیراً گدھے کی وہ آواز ہے کہ جب گدھا ہنہنانا ختم کرتا ہے تو اس کے سینے کی آواز بھی اس کے گلے کی آواز کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بڑی مکروہ اور خوفناک ہوتی ہے۔ جہنمی جہنم میں ڈالے جائیں گے تو انہیں آگ کی زنجیروں کے ساتھ جکڑ کر جہنم کی تنگ وادیوں سے گزارا جائے گا۔ جس سے گزرتے ہوئے ان کی ہڈیاں چکنا چور ہوجائیں گی جس کی وجہ سے وہ موت کو آواز پر آواز دینگے۔ ان کی حالت دیکھ کر جہنم کے فرشتے جھڑکیاں دیتے ہوئے انہیں کہیں گے کہ آج ایک موت نہیں بہت سی موتوں اور ہلاکتوں کو پکارو تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اب تم نے ہمیشہ اسی حالت میں رہنا اور چلاّنا ہے۔ مسائل ١۔ جہنمیوں کو دیکھ کر جہنم کی آگ میں جوش پیدا ہوجائے گا۔ ٢۔ جہنم کی آگ سے خوفناک قسم کی آوازیں نکلیں گی۔ ٣۔ جہنمیوں کو آگ کی زنجیروں میں جکڑ کر جہنم کی تنگ وادیوں میں گھسیٹا جائے گا۔ ٤۔ جہنمی موت کو آواز دیں گے لیکن انہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ تفسیر بالقرآن جہنمیوں کی آہ زاریاں : ١۔ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی دیر کے لیے مہلت دے ہم تیری دعوت کو قبول اور تیرے رسول کی بات کو تسلیم کریں گے۔ (ابراہیم : ٤٤) ٢۔ جہنمی کہیں گے اے اللہ ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو واپس لوٹا دے۔ (السجدۃ: ١٢) ٣۔ اے ہمارے پروردگار ہمیں یہاں سے نکال ہم پہلے سے نیک عمل کریں گے۔ (الفاطر : ٣٧) ٤۔ اے ہمارے رب! ہمیں یہاں سے نکال اگر دوبارہ ایسا کریں تو بڑے ظالم ہوں گے۔ (المومنون : ١٠٧)