سورة الحج - آیت 58

وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللَّهُ رِزْقًا حَسَنًا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر قتل کردیے گئے یا طبعی موت مر گئے۔ اللہ ان کو اچھا رزق دے گا اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے۔ (٥٨)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ذلیل کردینے والے عذاب سے مامون رہنے اور جنت کی نعمتیں پانے کے لیے ضروری ہے کہ انسان کفر کے ماحول کو چھوڑ دے۔ ہجرت کالغوی معنٰی ہے کسی چیزکو ترک کرنا، چھوڑ دینا، لیکن شری اصطلاح میں جو چیز جو اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں رکاوٹ بنتی ہو اس کو چھو ڑنا ہجرت کہلاتا ہے اور چھوڑنے والا مہا جر ہوگا۔ کسی قوم کا داعی حق کے مقا بلے میں آ جا نا ہی ہجرت کا جو از پیدا نہیں کردیتا۔ بلکہ جب تک یہ واضح نہ ہوجائے کہ اس قوم میں خیر کی آبیاری ناممکن ہوگئی ہے ایسے حالات میں نبی کو اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آجایا کرتا ہے۔ مصلح اور عام داعی حق کو حکم نہیں آیا کرتا تاہم خدا داد بصیرت اور قرآن و سنت کی روشنی میں ہجرت کرنے کا فیصلہ داعی کا اختیار ہوتا ہے۔ کسی قوم میں نبی کا ہجرت کر کے چلے جانا معمو لی بات نہیں کہ دل اکتایا، بوریا اٹھایا اور چل نکلے۔ ایسی بستی تو بزم ہستی کے لیے ایک بو جھ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اس لیے اس قوم کو بہت جلدنیست و نابود یا اس پر بھاری عذاب آجاتا ہے۔ ہجرت کرنا معمو لی کام نہیں کہ نبی جب چا ہے ملک و ملت کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلا جائے۔ نبی کو جب تک واضح حکم نہ آ جاۓ وہ ہجرت کرنے کا مجاز نہیں ہوتا۔ جیساکہ یونس (علیہ السلام) کا واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے۔ ” اور مچھلی والا (یو نس (علیہ السلام) جب غصے ہو کر چلا گیا اور وہ سمجھا تھا شاید ہم اس کو پکڑ نہیں سکیں گے، پھر یونس (علیہ السلام) نے اندھیروں میں پکارا اے اللہ تیرے بغیر میرا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے یقیناً میں قصور وار ہوں، پھر ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات بخشی اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں۔“ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اسکے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے۔ ہجرت کی تکالیف ومشکلات ایمان سے خالی دل کو ننگا کردیتی ہیں۔ یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے مہاجرین کو اصحاب صدق وصفا کے القاب سے نوازا ہے۔ جس نے اللہ کی رضا جوئی کے لیے ہجرت کی اگر دوران سفر آخرت کو سدھارا تو اس کے گناہ معاف اور اسے آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی اگر منزل مقصود تک پہنچ گیا تو دنیا میں بھی فراخی پائے گا۔ (وَ مَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْ بَیْتِہٖ مُھَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ وَ کَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا) [ النساء : ١٠٠] ” جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ رہنے کے لیے زمین میں بہت جگہ پائے گا اور کھانے، پینے کے لیے فراخی ہوگی اور جو اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کے لیے نکلے لیکن راستہ میں اسکو موت آ گئی اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ رحم کرنے اور معاف کردینے والا ہے۔“ (عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ الی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلَی دُنْےَا ےُصِےْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ ےَتَزَوَّجُھَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَےْہِ۔) [ رواہ البخاری : باب کَیْفَ کَانَ بَدْءُ الْوَحْیِ إِلَی رَسُول اللَّہِ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیت پر ہے اور آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس شخص نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔“ مسائل ١۔ ہجرت کے دوران مہاجر قتل ہوجائے یا طبعی موت مرے اس کے لیے اجر لازم ہے۔ ٢۔ اللہ کے لیے ہجرت کرنے والے کو دنیا میں بھی بہترین رزق دیا جائے گا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ بہتر رزق دینے والا ہے۔ ٤۔ قیامت کے دن مہاجر کو اس کی پسند کا مقام دیا جائے گا۔ ٥۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر بات کو جاننے والا اور بڑا ہی برد بار ہے۔