سورة الحج - آیت 9

ثَانِيَ عِطْفِهِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۖ لَهُ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ ۖ وَنُذِيقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَذَابَ الْحَرِيقِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے دن اس کو ہم آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ (٩)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کے ستر حصوں میں سے ایک ہے آپ سے عرض کیا گیا‘ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلانے کو تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر ڈگری بڑھا دیا گیا ہے۔ ہر ڈگری دنیا کی آگ کے برابر ہوگی۔“ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دو صور پھونکنے کا عرصہ چالیس ہوگا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے ان کے شاگردوں نے پوچھا چالیس دن ؟ ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے استفسار کیا چالیس ماہ ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے جواباً فرمایا میں یہ نہیں کہتا۔ انہوں نے پھر پوچھا چالیس سال ہیں؟ ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں میں یہ بھی نہیں کہتا۔ یعنی ابوہریرہ (رض) بھول گئے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کتنی مدت بتلائی تھی اس کے بعد اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا۔ لوگ یوں اگیں گے جس طرح انگوری اگتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، انسان کی دومچی کے علاوہ ہر چیز بو سیدہ ہوجائے گی۔ قیامت کے دن اسی سے تمام اعضاء کو جوڑا جائے گا۔“ [ رواہ البخاری : باب (یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًا) زُمَرًا ] (دومچی سے مراد اس کا کوئی خاص ذرّہ ہے جو محفوظ رہتا ہے۔) مسائل ١۔ قیامت کو جھٹلانے والا حقیقتاً اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کرتا ہے۔ ٢۔ قیامت کو جھٹلانے والے کے پاس عقلی و نقلی دلیل نہیں ہوتی ٣۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلادینے والا عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے منکر کو عذاب : ١۔ قیامت کو جھٹلانے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ سے روکنے والے کے لیے جلا دینے والا عذاب ہوگا۔ (الحج : ٩) ٢۔ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والے اور قیامت کو جھٹلانے والے عذاب میں مبتلا کیے جائیں گے۔ (الروم : ١٦) ٣۔ قیامت کو جھٹلانے والوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (الفرقان : ١١)