سورة الحج - آیت 1

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑا ہولناک ہے۔“ (١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سورۃ الانبیاء کا اختتام قیامت کے ذکر پر ہوا اس سورۃ کی ابتداء قیامت کی ہولناکیوں کے ذکر سے کی جا رہی ہے۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ اور یقین کرو کہ قیامت کا زلزلہ بڑا عظیم تر زلزلہ ہوگا۔ قیامت کا زلزلہ انسان کے تصورات سے ماوراء ہے لیکن اس کا ہلکا سا اندازہ کرنے کے لیے غور فرمائیں کہ اگر فضا میں اڑنے والے دو طیارے آپس میں آمنے سامنے ٹکرا جائیں یا ریل گاڑیوں کا باہم ٹکراؤ ہوجائے تو یہ حادثہ کس قدر خوفناک اور دھماکہ خیز ہوگا۔ یہ حقیقت قریب قریب آشکارا ہوچکی ہے کہ زمین، سورج، چاند، تارے اور سیارے اپنے اپنے مدار اور فضا میں اپنی اپنی رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ صرف زمین اور چاند کی رفتار کا اب تک جو اندازہ ہوا ہے کہ چوبیس ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے فضا میں دوڑ رہے ہیں۔ غور فرمائیں کہ جب اسرافیل کے پہلا صور پھونکنے پر ان کے درمیان ٹکراؤ ہوگا تو زمین و آسمان پہاڑوں اور دریاؤں کی کیا کیفیت ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر بالقرآن سے اس حادثہ کا کچھ نہ کچھ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس عظیم زلزلہ سے یہ کہہ کر آگاہ کیا ہے کہ لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ۔ اس سے ڈرنے کا معنٰی شرک و بدعت سے بچ کر اپنے رب کی تابعداری کرنا ہے یہی انسان کی دانشمندی کی دلیل ہے۔ قیامت اس قدر اچانک اور ہولناک ہوگی اس دن دودھ پلانے والی اپنے بچے کو پھینک دے گی اور حاملہ عورت کا حمل گرجائے گا۔ لوگ مدہوش ہوں گے حالانکہ انھوں نے کسی قسم کا نشہ نہیں کیا ہوگا۔ ماں کا بچہ پھینکنا، حاملہ کا اپنا حمل گرا دینا اور لوگوں کا مدہوش جانا اس لیے ہوگا کیونکہ اس دن اللہ کا عذاب اور عتاب بہت سخت ہوگا۔ قیامت کے دن سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا۔ زمین تانبے کی طرح تپ رہی ہوگی۔ لوگ اپنے اپنے پسینے میں شرابور اور بعض لوگ اپنے پیسنے میں ڈبکیاں لے رہے ہوں گے سب برہنہ ہوں گے۔ رب ذوالجلال کے عتاب اور عذاب کی وجہ سے کوئی ترچھی آنکھ سے بھی کسی کو دیکھنے کی جرأت نہیں کرے گا یہ دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا۔ اس کا وہ مرحلہ سب سے سخت ہوگا جب رب ذوالجلال آدم (علیہ السلام) کو کھڑا کر کے حکم دیں گے کہ آدم اپنی اولاد میں سے نوسو ننانوے کو جہنم کے لیے الگ کرلو۔ اس وقت بڑے بڑے انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صلحاء نفسی، نفسی کی صدائیں بلند کر رہے ہوں گے۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اس مرحلہ کا ذکر کیا تو صحابہ کرام (رض) بے انتہا خوفزدہ ہوئے۔ آپ نے انھیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ نو سو ننانوے تم میں سے نہیں بلکہ یاجوج ماجوج میں سے ہوں گے۔ ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ بوڑھے ہوئے جا رہے ہیں آپ نے فرمایا سورۃ ھود، واقعہ، مرسلات، عم یتسالون اور سورۃ تکویر نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔“ [ رواہ الترمذی : باب وَمِنْ سُورَۃِ الْوَاقِعَۃِ ] ” حضرت شداد بن اوس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا عقل مند وہ ہے جس نے موت کے بعد کی زندگی کے لیے نیک عمل کیے اور نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کے تابع کرلیا اس کے باوجود اللہ تعالیٰ سے امید رکھے ہوئے ہے۔“ [ رواہ الترمذی : باب الکیس من دان نفسہ] مسائل ١۔ قیامت کا دن بہت ہی شدید تر ہوگا۔ ٢۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ماں اپنے بچے کو اپنی چھاتی سے چھڑا کر زمین پر پھینک دے گی۔ ٣۔ حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ خوف کے مارے مدہوش دکھائی دیں گے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کی ہولناکیوں کی ایک جھلک : ١۔ قیامت کا زلزلہ بہت بڑا ہوگا۔ ( الحج : ١) ٢۔ قیامت کے دن ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور دودھ پلانے والی اپنا بچہ چھاتی سے پھینک دے گی۔ ( الحج : ٢) ٣۔ قیامت کے دن زمین میں زلزلہ ہوگا۔ ( الواقعہ : ٣) ٤۔ لوگ اڑتے ہوئے پتنگوں کی طرح ہوجائیں گے۔ ( القارعۃ: ٤) ٥۔ پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑنے لگیں گے۔ ( القارعۃ: ٥) ٦۔ قیامت کے دن لوگ بے ہوش دکھائی دیں گے۔ ( الحج : ٢) ٧۔ اس دن زمین اور پہاڑ کانپنے لگیں گے اور پہاڑ ریت کے ٹیلوں کی طرح ہوجائیں گے۔ (المزمّل : ١٤)