سورة الأنبياء - آیت 108

قُلْ إِنَّمَا يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ فَهَلْ أَنتُم مُّسْلِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ان سے فرمادیں کہ میرے پاس جو وحی آتی ہے اس کا پیغام یہ ہے کہ تمہارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے بتاؤ کیا کہ تم تسلیم کرتے ہو؟ (١٠٨)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد آپ کی آمد کا بنیادی اور مرکزی مقصدبیان کیا گیا ہے۔ اسی سورۃ کی آیت ” ٢٥“ میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے جتنے انبیاء (علیہ السلام) مبعوث فرمائے۔ انھیں یہی حکم صادر فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست یہ حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتلائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے حکم دیا ہے کہ میں لوگوں کو بتلاؤں اور سمجھاؤں کہ لوگو! تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے کیا تم اس کے تابعدار ہونے کے لیے تیار ہو ؟ اگر تم عقیدہ توحید ماننے اور اللہ تعالیٰ کی تابعداری سے انکار کرتے ہو تو پھر جان لو کہ میں نے تمھیں پوری طرح آگاہ کردیا ہے۔ ہاں جس عذاب اور قیامت کا تمھیں وعدہ دیا جاتا ہے وہ قریب ہے یا دور۔ اللہ تعالیٰ اس کی آمد کو اچھی طرح جانتا ہے وہ یہ بھی جانتا ہے جو بات سر عام کرتے ہو یا جس کو تم چھپاتے ہو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رحمت عالم قرار دینے کے بعد عقیدہ توحید کا اس لیے ذکر کیا گیا کہ لوگوں کو یہ بتلایا جائے کہ بے شک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رحمت عالم ہیں لیکن آپ کی نبوت کے حوالے سے رب کریم کی رحمت کا وہی شخص مستحق ہوگا جو آپ کی دعوت یعنی عقیدہ توحید کو قبول کرکے عملاً اللہ تعالیٰ کی تابعداری کرے گا۔ آپ کی نبوت اسی باعث ہی جہانوں کے لیے حقیقی اور دائمی رحمت ہے اور یہی آپ کی نبوت کا پیغام ہے اور یہی آپ سے پہلے انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت ہوا کرتی تھی۔ اسی دعوت کی کفار مخالفت کیا کرتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو اسی بات کا احساس دلایا اگر تم نے اللہ کی توحید اور میری اطاعت کا انکار کیا تو قیامت کے دن ہر صورت پکڑے جاؤ گے۔ کفار اس بات کو مثبت انداز میں لینے کی بجائے منفی طور پر لیتے اور آپ کو طعنہ کے طور پر کہتے جس عذاب اور قیامت سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے وہ کب آئے گی ؟ اس سوال کے قرآن مجید میں مختلف جواب دیے گئے ہیں۔ یہاں فقط یہ جواب دیا ہے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ عذاب اور قیامت کب آئے گی۔ جو کچھ تم کہتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو اسے بھی اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ یہاں تک قیامت یا عذاب کا معاملہ ہے اس کے بارے میں میں نہیں جانتا کہ قیامت یا عذاب کب آئے گا تاہم یہ حقیقت ہے کہ حق کی مخالفت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مہلت دے رکھی ہے وہ تمہارے لیے ایک آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے۔ تم اس وقت تک ہی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو جب تک اس کا حکم صادر نہیں ہوتا۔ اس جواب کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے یہ دعا سکھلائی گئی کہ اے نبی آپ اور اپنے ساتھیوں کے لیے ان الفاظ میں اپنے رب کی نصرت مانگتے رہیں کہ اے ہمارے رب جو کچھ لوگ حق اور ہمارے بارے میں کہتے ہیں اس پر ہماری مدد فرما۔ ہمارے اور ہمارے مخالفوں کے درمیان حق اور سچ کے ساتھ فیصلہ فرما کیونکہ تو مظلوموں پر شفقت کرنے والا اور کمزوروں کی مدد کرنے والا ہے۔ طائف میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان الفاظ میں دعا کی : (اَللَّہُمَّ إلَیْکَ أشْکُوْ ضَعْفِ قُوَّتِیْ، وَقِلَّۃِ حِیْلَتِیْ، وَہَوَإنِیْ عَلَیْ النَّاسِ، یَا أرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ، أنْتَ رَبِّ المُسْتَضْعَفِیْنَ، وَأنْتَ رَبِّیْ، إلیٰ مَنْ تَکِلُنِیْ ؟ إلیٰ بَعِیْد یَتَجَہَّمُنِیْ ؟ أمْ إلیٰ عَدُوِّ مَلَکْتَہٗ أمْرِیْ ؟ إنْ لَّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَب فَلَا أُبَالِیْ، وَلٰکِنْ عَافِیَتُکَ ہِیَ أوْسَعُ لِیْ، أعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْہِکَ الَّذِیْ أشْرَقْتَ لَہٗ الظُّلُمَاتِ، وَصَلِّحْ عَلَیْہِ أَمْرَ الدُّنْیَا وَالآخِرَۃُ مَنْ أنْ تُنَزِّلَ بِیْ غَضْبُکَ، أوْ یَحِلُّ عَلَیَّ سَخَطُکَ، لَکَ العُتْبَی حَتّٰی تَرْضٰی، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إلَّا بکَ) [ الرحیق المختوم] ” اے اللہ میں اپنی کمزوری، وسائل کی کمی کا اور لوگوں کے مقابلے میں کمزور ہونے کی تیرے حضور فریاد کرتا ہوں۔ اے رحم کرنے والے، آپ کمزوروں کے رب ہیں اور آپ میرے بھی رب ہیں تو مجھے کس کے سپرد کرتا ہے دوری کی طرف جو مجھے غصہ میں مبتلا کر دے یا دشمن کی طرف جس کو تو نے میرے معاملے کا مالک بنایا اگر تو مجھ پر ناراض نہیں تو مجھے کسی کی پروا نہیں لیکن تیری عافیت مجھے درکار ہے میں پناہ چاہتا ہوں تیرے چہرے کے نور سے جس کے ساتھ تو نے اندھیروں کو جلا بخشی اور اسی کے ساتھ دنیا اور آخرت کا معاملہ درست ہوا۔ اس چیز سے کہ مجھ پر تیرا غضب نازل ہو۔ یا تیری مجھ پر ناراضگی حلال ہو۔ تیرے ہی لیے دونوں جانب ہیں یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے تیری توفیق کے بغیر نیکی کی طاقت اور گناہوں سے بچا نہیں جا سکتا۔“ مسائل ١۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا مقصد اللہ کی توحید سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے۔ ٢۔ نبی کا کام لوگوں کو اچھے برے انجام سے آگاہ کرنا ہے۔ ٣۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی معلوم نہ تھا کہ قیامت کب آئے گی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہر کھلی اور چھپی بات کو جانتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ غائب اور حاضر کو جانتا ہے اس کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : ١۔ اللہ ظاہر اور غائب کو جانتا ہے۔ (التوبۃ: ٩٤) ٢۔ اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (النحل : ١٩) ٣۔ تم اپنی بات کو پوشیدہ رکھو یا ظاہر کرو اللہ سینوں کے بھید جانتا ہے۔ (الملک : ١٣) ٤۔ اللہ کے لیے برابر ہے جو انسان چھپاتے اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ (الرعد : ١٠) ٥۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے۔ (الحشر : ٢٢) ٦۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ظاہر اور پوشیدہ کو جانتا ہے؟ (البقرۃ: ٧٧) ٧۔ اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ ( الانعام : ٥٩) ٨۔ اللہ آسمانوں و زمین کے رازوں سے واقف ہے۔ (الفرقان : ٦)