سورة الأنبياء - آیت 51

وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم نے پہلے سے ہی ابراہیم کو ہدایت بخشی اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔“ (٥١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے خلیل اور عظیم پیغمبر ہیں۔ جن کا تذکرہ یوں شروع کیا گیا ہے کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم ابراہیم کو جاننے والے ہیں۔ یہ مسلّمہ حقیقت اور ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کے ماضی، حال اور مستقبل کو جاننے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جتنے پیغمبر مبعوث فرمائے ان کی ابتدا ہی سے خصوصی رہنمائی فرمائی تھی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ ہم نے ابراہیم کو پہلے سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا اور ہم انھیں اچھی طرح جاننے والے تھے۔ میری سمجھ میں اس تعارف کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ ابراہیم نے ستارہ پرستوں کو عقیدہ توحید سمجھانے کے لیے استعارہ اور تمثیل کی زبان استعمال کی تھی۔ جس وجہ سے یہ شبہہ ہوسکتا تھا کہ شاید ابراہیم (علیہ السلام) بھی کچھ عرصہ شرک میں مبتلا رہے ہوں۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا اس طرح تعارف کر وایا جائے تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) کا مشرکین کے ساتھ جو مکالمہ ہوا اس سے کسی کو شبہ نہ ہوپائے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے دن یہ کہہ کر ستارہ پرستوں کے عقیدہ پر ضرب لگائی کہ دیکھو یہ ستارہ میرا رب ہے لیکن جب وہ غائب ہوگیا تو فرمایا کہ غائب ہونے والوں کو میں پسند نہیں کرتا۔ دوسرے دن انھوں نے چمکتے ہوئے چاند کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا یہ میرا رب ہوسکتا ہے لیکن جب چاند چھپ گیا تو فرمایا کہ اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی تو میں گمراہ ہونے والوں میں سے ہوجاتا۔ تیسرے دن جگمگاتا ہوا سورج دیکھا تو فرمایا کہ یہ میرا سب سے بڑا رب ہوسکتا ہے لیکن جب سورج غروب ہوگیا تو فرمایا کہ اے میری قوم جو تم شرک کرتے ہو میں اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ میں نے اپنے چہرے کو مکمل طور پر اس ذات کے حوالے کیا ہوا ہے جو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے۔ میں اپنے عقیدہ میں بالکل یکسو ہوں میرا مشرکوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہے وہ رشد و ہدایت ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس لیے بھی رشد کا لفظ استعمال کیا گیا کیونکہ جس ماحول بالخصوص جس گھر میں انھوں نے تربیت پائی تھی وہ شرک کا مرکز اور ان کا باپ شرکیہ عقیدے کا بہت بڑا ترجمان تھا۔ لیکن اس کے باوجود ابراہیم (علیہ السلام) شرک سے بچے رہے۔ (عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لأَبِی یَا حُصَیْنُ کَمْ تَعْبُدُ الْیَوْمَ إِلَہًاقَالَ أَبِی سَبْعَۃً سِتًّا فِی الأَرْضِ وَوَاحِدًا فِی السَّمَاءِ قَالَ فَأَیُّہُمْ تَعُدُّ لِرَغْبَتِکَ وَرَہْبَتِکَ قَالَ الَّذِی فِی السَّمَاءِ قَالَ یَا حُصَیْنُ أَمَا إِنَّکَ لَوْ أَسْلَمْتَ عَلَّمْتُکَ کَلِمَتَیْنِ تَنْفَعَانِکَ قَالَ فَلَمَّا أَسْلَمَ حُصَیْنٌ قَالَ یَا رَسُول اللَّہِ عَلِّمْنِی الْکَلِمَتَیْنِ اللَّتَیْنِ وَعَدْتَنِی فَقَالَ قُلِ اللَّہُمَّ أَلْہِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی) [ رواہ الترمذی : باب جامِعِ الدَّعَوَاتِ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے باپ کو فرمایا اے حصین تم کتنے معبودوں کی عبادت کرتے ہو۔ میرے باپ نے کہا سات کی۔ چھ زمین میں ہیں اور ایک آسمان میں ہے آپ نے فرمایا خوف اور امید کے وقت کس کو پکارتا ہے۔ اس نے کہا جو آسمانوں میں ہے۔ آپ نے فرمایا اے حصین اگر تو اسلام لے آئے تو میں تجھے دو کلمات ایسے سکھلاؤں گا جو تیرے لیے نہایت ہی مفید ہوں گے۔ جب حصین اسلام لے آئے انہوں نے عرض کی اللہ کے محبوب مجھے وہ کلمات سکھلادیں جن کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا۔ آپ نے فرمایا پڑھیں : قُلِ اللَّہُمَّ أَلْہِمْنِی رُشْدِی وَأَعِذْنِی مِنْ شَرِّ نَفْسِی اے اللہ مجھے رشدوہدایت عطا فرما اور مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما“ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ہی سے رشد و ہدایت اور سمجھداری سے سرفراز فرمایا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت طیبّہ کی ایک جھلک : ١۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے ابتداء سے ہی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا۔ (الانبیاء : ٥١) ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اطمینان قلب کی درخواست کی تھی۔ ( البقرۃ: ٢٦٠) ٣۔ ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اور بردبار تھے۔ (التوبۃ: ١١٤) ٤۔ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت راست باز نبی تھے۔ (مریم : ٤١) ٥۔ بے شک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم، بڑے خیر خواہ اور نرم دل تھے۔ (ہود : ٧٥) ٦۔ ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے مومن بندوں میں سے تھے۔ (الصّٰفٰت : ١١١) ٧۔ ابراہیم (علیہ السلام) معبودان باطل کے انکاری اور ان سے براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : ٤)