سورة مريم - آیت 48

وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّي عَسَىٰ أَلَّا أَكُونَ بِدُعَاءِ رَبِّي شَقِيًّا

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

میں آپ لوگوں کو چھوڑتا ہوں اور ان کو بھی جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ میں اپنے رب ہی کو پکارتاہوں۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہیں ہوں گا۔“ (٤٨)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کو مؤدبانہ جواب۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو سخت جواب دینے کی بجائے نہایت ادب کے ساتھ فرمایا آپ میری دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو میرا آپ کو سلام ہو۔ میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا کیونکہ وہ بڑا ہی مہربان ہے۔ اب میں آپ اور جن کو بھی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ میں تو اپنے رب کو ہی پکارتا رہوں گا۔ میرا ایمان ہے کہ میرا رب مجھے کبھی محروم نہیں کرے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ سے رخصت ہوتے ہوئے انھیں سلام کیا۔ ظاہر ہے کہ ان کی شریعت میں مشرک کو سلام کرنے کی اجازت ہوگی یا پھر اس سلام سے مراد وہی سلام ہے جو جھگڑالو شخص کو کہنے کا حکم ہے۔ (وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُونَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا وَّاِِذَا خَاطَبَہُمُ الْجَاہِلُوْنَ قَالُوْا سَلاَمًا) [ الفرقان : ٦٣] ” اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر وقار کے ساتھ چلتے ہیں جب ان سے جاہل گفتگو کرتے ہیں تو وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تمہیں سلام۔“ جہاں تک باپ کے حق میں دعا کرنے کا تعلق ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ میرا والد اللہ کا دشمن ہے تو وہ اپنے باپ سے پوری طرح بیزار ہوگئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کی سختی اور دھمکی کے باوجود اس لیے دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) دوسرے کا دکھ دیکھ کر تڑپ جانے والے اور بڑے ہی حوصلہ والے تھے۔ (التوبۃ: ١١٤) نہ معلوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کتنی مدت باپ اور اپنی قوم کو سمجھاتے رہے۔ جب انھیں یقین ہوگیا کہ میرا باپ اور قوم میری دعوت ماننے کے لیے تیار نہیں تو انہوں نے باپ اور قوم سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ ( الصٰفٰت : ٩٩) قرآن مجید کے اسلوب بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ اور قوم سے علیحدگی کا اعلان آگ میں جھونکے جانے کے بعد کیا۔ دوسرے الفاظ میں ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کا اعلان کیا۔ ایسے موقعہ پر کفار اور مشرکین کے ساتھ مقاطعہ کی اجازت ہوتی ہے تاکہ وقت ضائع کرنے کی بجائے ان لوگوں کو دعوت دی جائے۔ جن تک پہلے دعوت نہ پہنچ پائی ہو۔ مسائل ١۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ اور قوم سے کنارہ کش ہوگئے۔ ٢۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنی دعاؤں کے بارے میں اپنے رب پر پورا یقین تھا۔ تفسیر بالقرآن کفار اور مشرکین کے ساتھ مقاطعہ کرنے کا حکم : ١۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میں آپ لوگوں سے اور جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ان سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ (مریم : ٤٧) ٢۔ اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ: ٥١) ٣۔ اے ایمان والو! اگر تمہارے آباء اسلام پر کفر کو ترجیح دیں تو اپنے آباء اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ۔ (التوبۃ: ٢٣) ٤۔ اے ایمان والو! کفار کو مومنوں کے مقابلہ میں دوست نہ بناؤ۔ (النساء : ١٤٤) ٥۔ اے ایمان والو! جن لوگوں نے تمھارے دین کو کھیل تماشہ بنا رکھا ہے انہیں دوست نہ بناؤ۔ (المائدۃ: ٥٧) ٦۔ اللہ تمھیں منع کرتا ہے کہ تم ان سے دوستی کرو جنھوں نے تمھارے دین میں جھگڑا کیا اور تمھیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ (الممتحنۃ: ٩) ٧۔ ابراہیم معبودان باطل کے انکاری اور براءت کا اظہار کرتے تھے۔ (الممتحنہ : ٤) ٨۔ ھود (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : ٥٤ ) ٩۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : ١٠٨ ) ١٠۔ اے کافرو تمہارے لیے تمہارا دین میرے لیے میرا دین ہے۔ (الکافرون)