سورة الكهف - آیت 13

نَّحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَأَهُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّهُمْ فِتْيَةٌ آمَنُوا بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَاهُمْ هُدًى

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” ہم آپ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، بے شک وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انہیں ہدایت میں اور زیادہ کردیا۔“ (١٣)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : تمہید کے بعد اب واقعہ کی تفصیلات بیان ہوتی ہیں۔ قرآن مجید کا ہر لفظ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا ہے۔ لیکن بعض واقعات اور احکام کی مرکزیت اور اہمیت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی طرف منسوب فرماتا ہے۔ اس واقعہ میں توحید کے اثبات اور نوجوانوں کے کردار کو نمایاں کرنے، شرک کے ابطال اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے موقف کو بے حیثیت اور بعث بعد الموت ثابت کرنے کے لیے اس بات کو اپنی ذات اقدس کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم اس واقعہ کو آپ کے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں۔ چند نوجوان اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کو ایمان اور ہدایت میں مزید آگے بڑھادیا۔ ان کے دلوں کو مضبوط کیا۔ جب وہ عزم بالجزم کے ساتھ اس دعوت کو لے کر اٹھے اور کہا کہ لوگو! ہمارا رب وہ رب ہے جو زمین آسمان کا خالق ہے۔ ہم اس کے سوا کسی دوسرے کو خالق، مالک اور عبادت کے لائق نہیں سمجھتے۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں۔ تو ہمارا اس طرح سمجھنا پرلے درجے کی حماقت ہوگا۔ ہماری قوم کی یہ حالت ہے کہ انہوں نے زمین و آسمان کے خالق و مالک کے سوا دوسروں کو معبود بنا کر حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیا ہے۔ یہ لوگ ان کے بارے میں کوئی ٹھوس، شرعی، اور عقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا اور اسے حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ ایسے شخص سے زیادہ ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ اس واقعہ میں پہلی حقیقت یہ ہے کہ زمین و آسمان کا خالق، مالک صرف ایک اللہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک سمجھنا اور کہنا پرلے درجے کا ظلم اور حماقت ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کے پاس شرعی اور عقلی لحاظ سے کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اسی طرح دوسری حقیقت یہ واضح کی گئی ہے کہ جب کوئی جواں مرد اللہ پر ایمان اور اس پر بھروسہ رکھتے ہوئے توحید کی دعوت لے کر اٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے جذبہ ایمان میں کئی گنااضافہ فرماکر اس کے کام کو آسان کردیتا ہے۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ نوجوان طبقہ نیکی اور برائی میں ہر اول دستہ کا کام دیتا ہے۔ انبیاء کرام کے ابتدائی ساتھی ہمیشہ نوجوان طبقہ ہی ہوا کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے دوٹوک انداز میں فرمایا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے جوانوں کے سوا کوئی ایمان نہ لایا۔ کیونکہ وہ فرعون اور اس کے وزیروں مشیروں کے مظالم سے ڈرتے تھے۔ فرعون ملک میں بڑا متکبر اور کفر میں حد سے بڑھا ہوا تھا۔ (یونس : ٨٣) دوسرے مقام پر فرمایا کہ فرعون کی قوم اس سے ڈر کر اس کی تابع دار ہوگی۔ حقیقت میں یہ لوگ نافرمان تھے۔ (الزخرف : ٥٤) رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت طیبہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں آپ پر ایمان لانے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ سیرت نگار لکھتے ہیں بزرگوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) ایمان لائے۔ غور فرمائیں حالانکہ حضرت ابوبکر (رض) کی عمر پونے اٹھتیس سال کے قریب تھی۔ جب حضرت عمر (رض) نے کلمہ پڑھا تو وہ ستائیس اور اٹھائیس سال کے درمیان تھے۔ حضرت سعد (رض) انیس سال کی عمر میں مسلمان ہوئے۔ حضرت عثمان (رض) ستائیس سال کے قریب تھے۔ حضرت علی (رض) دس بارہ سال کے تھے۔ اصحاب کہف کی عمر کے بارے میں ” فتیۃ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لغت کے لحاظ سے اس کا معنیٰ ہے ” چودہ سال سے لے کر اٹھائیس سال کے جوان تک بولا جاتا ہے“۔ جوانی کی عبادت کا مقام : (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سَبْعَۃٌ ےُظِلُّھُمُ اللّٰہُ فِیْ ظِلِّہٖ ےَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّہُ اِمَامٌ عَادِلٌ وَّشَآبٌّ نَشَأَ فِیْ عِبَادَۃِ اللّٰہِ وَرَجُلٌ قَلْبُہُ مُعَلَّقٌ بالْمَسْجِدِ اِذَا خَرَجَ مِنْہُ حَتّٰی ےَعُوْدَ اِلَےْہِ وَرَجُلَانِ تَحَآبَّا فِی اللّٰہِ اجْتَمَعَا عَلَےْہِ وَتَفَرَّقَا عَلَےْہِ وَرَجُلٌ ذَکَرَاللّٰہَ خَالِےًا فَفَاضَتْ عَےْنَاہُ وَرَجُلٌ دَعَتْہُ امْرَاَۃٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَّجَمَالٍ فَقَالَ اِنِّیْ اَخَاف اللّٰہَ وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ فَاَخْفَاھَا حَتّٰی لَا تَعْلَمَ شِمَالُہٗ مَا تُنْفِقُ ےَمِےْنُہٗ)[ رواہ البخاری : باب من جلس فی المسجد] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سات آدمیوں کو اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے جس دن کوئی چیز سایہ فگن نہ ہوگی۔ (١) عدل کرنے والا حکمران (٢) اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ذوق وشوق رکھنے والا جوان (٣) وہ شخص جس کا دل مسجد کے ساتھ منسلک رہے جب وہ مسجد سے باہر جاتا ہے تو واپس مسجد میں جانے کے لیے فکر مند رہتا ہے (٤) دو آدمی جو باہم اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر ہی ایک دوسرے سے میل جول رکھتے اور الگ ہوتے ہیں (٥) جس آدمی نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے (٦) ایسا شخص جس کو ایک خاندانی حسین وجمیل عورت نے گناہ کی دعوت دی مگر اس نے یہ کہہ کر اپنے آپ کو بچائے رکھا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور (٧) وہ جس نے صدقہ کیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہوپائی کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا ہے۔ مسائل ١۔ قرآن مجید میں جو قصص بیان ہوئے ہیں وہ برحق ہیں۔ ٢۔ اصحاب کہف چند نوجوان تھے جو ایمان لائے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کو ہدایت میں آگے بڑھایا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے دل مضبوط کردیئے۔ ٥۔ اصحاب کہف نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں پکارنا چاہیے۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو پکارنا بڑے گناہ اور ظلم کی بات ہے۔ تفسیر بالقرآن نو جوانوں کا کردار : ١۔ وہ کچھ جوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے ہم نے انکی ہدایت میں اضافہ کردیا۔ (الکہف : ١٣) ٢۔ ہم نے ایک نوجوان کا تذکرہ سنا ہے جسے ابراہیم کہتے ہیں۔ (الانبیاء : ٦٠) ٣۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے حکمت اور علم عطا کیا۔ (القصص : ١٤) ٤۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو دانائی اور علم عطا کیا۔ (یوسف : ٢٢)