سورة الكهف - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ کے نام سے جو بہت ہی رحم والا، نہایت مہربان ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تعارف سورۃ کہف اس سورۃ مبارکہ کا نام اس کی نویں آیت سے لیا گیا ہے۔ یہ سورۃ پوری کی پوری مکہ معظمہ میں نازل ہوئی۔ یہ سورت ایک سو دس آیات اور بارہ رکوع پر مشتمل ہے۔ سورۃ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش سے کی گئی ہے کہ ہر قسم کی تحمید و تقدیس اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسی کتاب نازل فرمائی جس کے مطالب، احکام اور ارشادات میں کسی قسم کا تضاد اور تعارض نہیں ہے۔ اس کے ارشادات اثر انگیز اور اس کے احکام ٹھوس، واضح اور نتائج کے اعتبار سے بے حد و حساب مفید اور قابل عمل ہیں۔ یہ سورۃ مبارکہ ہجرت مدینہ سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں یہودیوں کے سکھلانے پر اہل مکہ نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین سوال کیے۔ ١۔ اصحاب کہف کون تھے ؟ ٢۔ ذوالقرنین کون تھا ؟ ٣۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت خضر کے واقعہ کی کیا حقیقت ہے ؟ اصحاب کہف کے واقعہ میں ایک طرف اہل مکہ کو یہ بتلایا اور سمجھایا گیا کہ تم لوگ اپنی کثرت اور طاقت کیگھمنڈ میں آکر مسلمانوں کو مکہ سے نکالنے کے درپے ہو لیکن یاد رکھنا کہ جس طرح اصحاب کہف کو ان کے وطن سے نکالنے والے ان کے مشن کو ختم نہیں کرسکے تھے۔ اسی طرح تم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کو مکہ سے نکال باہر کرنے کے باوجود ان کی دعوت کو ختم نہیں کرسکو گے۔ جس طرح اصحاب کہف کا مشن عام ہوا تھا اسی طرح ہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کا مشن دنیا میں غلبہ حاصل کرے گا۔ جہاں تک ذوالقرنین کے واقعہ کا تعلق ہے اس میں تمہارے لیے یہ سبق ہے کہ بے پناہ وسائل اور اختیارات ہونے کے باوجود اس نے مغلوب اور مفتوح قوم پر ظلم کرنے سے اجتناب کیا تھا۔ جس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا کے کثیر حصہ پر اقتدار دیا اور اس کے اقتدار کو استحکام بخشا تھا۔ اس کے منصفانہ اور مشفقانہ کردار کی و جہ سے اسے دنیا میں شہرت دوام حاصل ہوئی اور آخرت میں اسے اجر عظیم سے نوازا جائے گا۔ اے اہل مکہ ! اگر تم دنیا کی نیک نامی اور آخرت کی خیر چاہتے ہو تو تمہیں ذوالقرنین کے کردار سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خضر کی ملاقات اور گفتگو میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ دنیا میں بے شمار واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کی حکمت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اگر تمہیں مسلمانوں پر کچھ تسلط حاصل ہے تو جان لو کہ اس میں بیک وقت تمہاری اور مسلمانوں کی آزمائش ہے۔ تم ظالمانہ کردار کے حوالے سے پہچانے جا رہے ہو اور مسلمان مظلومانہ حالت میں اجر کے مستحق قرارٹھہرائے جارہے ہیں۔ لیکن یاد رکھنا اس دنیا کی زیب و زیبائش عارضی ہے۔ جس مال اور اولاد پر اتر رہے ہو یہ سب کچھ فنا کے گھاٹ اتر جائے گا۔ آخرت میں کردار کے حوالے سے فیصلہ ہوگا۔ جس نے نیک اعمال کیے وہ کامیاب ٹھہرے گا اور جنت میں ہمیشہ کے لیے عیش کرے گا۔ جس نے ظلم و تعدی کا رویہ اختیار کیا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں پھینکا جائے گا۔ آخر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشریت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جو اپنے رب سے ملاقات کی تمنا رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ رب تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو کسی انداز میں شریک نہ بنائے۔ سورۃ الکھف کی فضیلت : (عَنْ أَبِی الدَّرْدَاءِ أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آیَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَۃِ الْکَہْفِ عُصِمَ مِنَ الدَّجَّالِ )[ رواہ مسلم : باب فضل سورۃ الکھف : ” حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے سورۃ کہف کی پہلی دس آیات حفظ کیں، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔“ (عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَّہُ قَالَ مَنْ قَرَأَ أَوَّلَ سُورَۃِ الْکَہْفِ وَآخِرَہَا کَانَتْ لَہُ نُوراً مِنْ قَدَمِہِ إِلَی رَأْسِہِ وَمَنْ قَرَأَہَا کُلَّہَا کَانَتْ لَہُ نُوراً مَا بَیْنَ السَّمَاءِ إِلَی الأَرْضِ)[ رواہ احمد] ” حضرت سہل بن معاذ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص سورۃ کہف کو اول اور آخر سے تلاوت کرتا ہے۔ اس کے قدموں سے لے کر سر تک نور ہوجاتا ہے اور جو مکمل سورۃ پڑھتا ہے تو اس کے لیے زمین اور آسمان کا مابین نور سے بھر دیا جاتا ہے۔“ (عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ (رض) قَرَأَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِی الدَّار الدَّابَّۃُ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَسَلَّمَ، فَإِذَا ضَبَابَۃٌ أَوْ سَحَابَۃٌ غَشِیَتْہُ، فَذَکَرَہُ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ اقْرَأْ فُلاَنُ، فَإِنَّہَا السَّکِینَۃُ نَزَلَتْ لِلْقُرْآنِ، أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ )[ رواہ البخاری : باب علاَمَات النُّبُوَّۃِ فِی الإِسْلاَمِ] ” حضرت ابی اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب (رض) سے سنا کہ ایک آدمی اپنے گھر میں سورۃ الکہف کی تلاوت کر رہا تھا تو اس کے گھوڑے نے بدکنا شروع کردیا تو اس نے سلام پھیر کر آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو اسے بادلوں کا ایک ٹکڑا نظر آیا جو اسے ڈھانپے ہوئے تھا اس نے اس کا تذکرہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کیا آپ نے فرمایا اے فلاں پڑھتے رہو یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہوئی تھی یا قرآن کی وجہ سے نازل ہو رہی تھی۔“