سورة الحجر - آیت 9

إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” یقیناً ہم ہی نے قرآن نازل کیا ہے اور ہم اس کی ہر صورت حفاظت کرنے والے ہیں۔“ (٩) ”

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت قرآن مجید کی بناء پر تھی۔ اس لیے قرآن کے مخالفوں کو بالخصوص بتلایا گیا ہے کہ تم جو چاہو کر گزرو قرآن مجید ہمیشہ باقی رہے گا۔ سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لوگوں کی مخالفت کا بنیادی سبب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبوت کا اعلان تھا۔ ورنہ مخالفت کرنے والے لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ” الصادق“ اور ” الامین“ کہتے تھے۔ مگر جونہی قرآن مجید نازل ہوا اور آپ نے اسے لوگوں تک پہنچایا تو مکہ کے لوگوں کی اکثریت روز بروز مخالفت میں بڑھتی ہی چلی گئی۔ وہ اس بات کا مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی بجائے کوئی اور قرآن ہمارے سامنے پڑھا جائے۔ کبھی یہ کہتے قرآن مجید کے فلاں فلاں حصے کو تبدیل کردیا جائے۔ جب ان کے یہ مطالبات مسترد کردیے گئے تو انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ قرآن مجید کے نور کو بجھا دیا جائے۔ جس پر یہ اعلان ہوا کہ کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا۔ بے شک یہ بات کفار کے لیے کتنی ہی تکلیف دہ کیوں نہ ہو۔ (الصف : ٨) اس مقام پر قرآن مجید کو ” اَلذِّکْرْ“ قرار دے کر فرمایا ہے کہ ہم نے اسے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان کے مطابق نہ صرف ہمیشہ کے لیے قرآن مجید کی حفاظت کا بندوبست فرمایا بلکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق جو قرآن مجید کی تشریح حدیث مبارکہ کی صورت میں فرمائی اسے بھی قیامت تک کے لیے محفوظ فرمادیا گیا ہے۔ عرب میں پڑھنے لکھنے کا رواج بہت ہی کم تھا۔ مذہبی‘ ثقافتی اور تجارتی مرکز ہونے کے باوجود مکہ میں پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد تقریباً بیس سے زیادہ نہ تھی اور یہ بھی معمولی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ شدید علمی بحران اور پڑھائی لکھائی کا رواج نہ ہونے کے باوجود نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کا اہتمام فرمایا کہ جوں ہی قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا اسے اپنی نگرانی میں مرتب کرواتے کاغذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے قرآن مجید کو ہڈی‘ لکڑی‘ پتھر یہاں تک کہ بعض درختوں کے پتے اس طریقے سے تیار کیے جاتے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا جیسا کہ پرانے زمانے کے کتبات اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس طرح مکمل قرآن مجید مختلف کتبات کی شکل میں محفوظ کرلیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ حفظ قرآن اور اس کی تبلیغ کا سلسلہ اس طرح ٹھوس بنیادوں پر شروع کیا گیا جو قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ تاہم کتابی شکل میں قرآن مجید اس وقت مرتب ہوا جب حضرت صدیق اکبر (رض) کے ابتدائی دور میں یمامہ کے مقام پر مسیلمہ کذّاب کے ساتھ صحابہ کرام (رض) کا مقابلہ ہوا۔ تحفظ ختم نبوت کے اس معرکہ میں دوسرے شہداء کے ساتھ تقریباً سات سو حفاظ صحابہ شہید ہوئے (القرطبی) اس سانحہ سے متاثر ہو کر حضرت عمر (رض) نے خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکر صدیق (رض) سے عرض کیا کہ اگر حفاظ کرام اسی طرح شہید ہوتے رہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ امت قرآن مجید کے کچھ حصہ سے محروم ہوجائے۔ میری درخواست ہے کہ قرآن مجید کو کتابی شکل میں یکجاکر دیا جائے۔ ابتداءً حضرت ابو بکر صدیق (رض) نے ایسا کرنے سے یہ کہہ کر معذرت کی کہ چونکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح کرنے کا حکم نہیں دیا لہٰذا ہمیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ حضرت عمر (رض) کے بار بار توجہ دلانے پر بعد ازاں آمادہ ہوئے تو انہوں نے کاتب وحی حضرت زید بن ثابت (رض) کو قرآن مجید جمع کرنے کی ہدایت فرمائی بالآخر قرآن مجید ایک نسخہ کی شکل میں مرتب کردیا گیا۔ جو حضرت ابوبکر (رض) پھر حضرت عمر (رض) اور ان کی وفات کے بعد ام المومنین حضرت حفصہ (رض) کے پاس محفوظ تھا۔ (بخاری : کتاب فضائل القرآن، باب جمع القرآن) حضرت عثمان (رض) کی خلافت میں عراق اور دوسرے ممالک میں قرآن مجید کے لہجہ اور تلفظ میں اختلاف رونما ہوا تو حضرت عثمان (رض) نے قریش کی کتابت اور لغت میں قرآن مجید کی متعدد نقول تیار کروا کر مملکت اسلامیہ کے دور دراز علاقوں میں ارسال فرمادیں۔ چنانچہ جو قرآن مجید رب عظیم نے اپنے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا تھا من و عن کسی تحریف اور تغیر و تبدل کے بغیر اب تک محفوظ ہے اور قیامت تک محفوظ و موجود رہے گا جس کی تصدیق اسلام کے بدترین دشمن ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ (انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا‘ بحوالہ ضیاء القرآن ) "THIS RECENSION OF UTHMAN THUS BECAME THE ONLY STANDARD TEXT FOR THE WHOLE MUSLIM WORLD UP TO THE PRESENT DAY." جو قرآن مجید اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ بعینہ وہی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی معرفت اپنے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمایا اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اسے موجودہ ترتیب کے مطابق لکھوایا، صحابہ (رض) کو یاد کرایا اور خود پڑھا۔ ( اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْآنَہٗ) [ القیامۃ: ١٧] ” بے شک ہماری ذمہ داری ہے اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا۔“ جمع و ترتیب : صحیح بخاری میں ہے کہ جب آیت (لَا یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ) نازل ہوئی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اُدْعُ لِیْ زَیْدًا وَلْیَجِیْٓ ءُ بِا للَّوْحِ وَالدَّ وَاۃِ وَالْکَتِفِ) [ رواہ البخاری : کتاب فضائل القرآن] ” زید کو میرے پاس بلاؤ کہ وہ دوات اور شانہ کی ہڈی لے کر حاضر ہو۔“ حضرت عمر (رض) کے اسلام لانے کا واقعہ اور سبب تفصیل کے ساتھ سیرت کی تمام کتب میں درج ہے کہ وہ اپنی بہن اور بہنوئی کے گھر گئے اور ان کو لکھا ہوا قرآن پڑھتے ہوئے پایا تو کہنے لگے : (اَعْطُوْنِی الْکِتٰبَ الَّذِیْ عِنْدَکُمْ اَقْرَأُہٗ) [ دارقطنی] ” جو قرآن تمہارے پاس ہے اسے لاؤ تاکہ میں اسے پڑھوں۔“ (کَان النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِمَّا تَنَزَّلُ عَلَیْہِ الْآیَاتُ فَیَدْعُوْ بَعْضُ مَنْ کَانَ لَہٗ یَکْتُبُ لَہٗ وَیَقُوْلُ لَہٗ ضَعْ ہٰذِہِ الْاٰیَۃَ فِی السُّوْرَۃِ الَّتِیْ یُذْکَرُ فِیْہَا کَذَا وَکذَا) [ رواہ ابوداؤد : کتاب الصلٰوۃ] ” جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آیات اترتیں تو کاتب وحی کو بلا کر فرماتے اس آیت کو فلاں سورت میں فلاں جگہ لکھو۔“ مسائل ١۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ قرآن مجید کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ نے لی ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں قیامت تک ردو بدل نہیں ہوسکتا : ١۔ قرآن مجید کو ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ (الحجر : ٩) ٢۔ اللہ کے کلمات تبدیل نہیں ہو سکتے۔ (یونس : ٦٤) ٣۔ فرما دیجئے کہ میرے پاس کوئی اختیار نہیں کہ میں اس قرآن میں کسی قسم کی تبدیلی کر دوں۔ (یونس : ١٥) ٤۔ اپنے پروردگار کی کتاب جو تمھارے پاس بھیجی گئی ہے اسے پڑھتے رہا کرو اور کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔ (الکہف : ٢٧)