سورة ابراھیم - آیت 27

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو ایمان لائے اللہ ان کو پختہ بات کے ساتھ قائم رکھتا ہے، دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللہ جو چاہے کرتا ہے۔“ (٢٧)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : باطل عقیدہ کی بے ثباتی اور اس کی ناپائیداری کا ذکر کرنے کے بعد عقیدہ توحید کا دنیا اور آخرت میں فائدہ ذکر فرمایا ہے۔ عقیدۂ توحید اپنانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کا صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اور موت کے وقت بھی اس کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ عقیدۂ توحید کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ پر خالص ایمان لاتے ہوئے خوشی اور غمی، عسر اور یسر میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ اس کا دنیوی زندگی میں فائدہ یہ ہے کہ آدمی خوشی کے وقت اپنے آپ سے باہر نہیں ہوتا اور غم کے وقت مایوسی کا شکار نہیں ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کلمہ توحید کی وجہ سے مسلمان کو دنیا اور آخرت کی آزمائشوں میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ آخرت کی پہلی منزل انسان کی موت ہے، دوسری منزل قبر ہے جسے عالم برزخ کہا گیا ہے اور تیسری منزل محشر کے میدان میں جمع ہو کر رب ذوالجلال کے حضور پیش ہونا ہے۔ کلمہ توحید کے تقاضے پورے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ان منازل میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ اور جو لوگ اس توحید خالص پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ گمراہی میں آگے بڑھنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتا ہے کیونکہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جس نے اس کو انسان کی مرضی پر چھوڑ رکھا ہے۔ عقیدہ کو صحیح طور پر نہ سمجھنے اور اس کے تقاضے پورے نہ کرنے والا شخص کسی آزمائش میں پورا نہیں اترسکتا۔ عقیدۂ توحید کے دنیا اور آخرت میں فائدے : (إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ الْمَلَآءِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَأَبْشِرُوْا بالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ نَحْنُ أَوْلِیَآؤُکُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ أَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَحِیْمٍ )[ حٰم السجدۃ: ٣٠ تا ٣٢] ” یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر اس پر قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے اور کہیں گے خوف اور غم محسوس نہ کرو اور بہشت کی جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا خوشی مناؤ۔ ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمھارے دوست تھے اور آخرت میں بھی اور تمھارے لیے اس میں وہ کچھ ہوگا جو تمھارا جی چاہے گا اور جو چیز تم طلب کرو گے موجود پاؤ گے یہ بخشنے والے مہربان کی طرف سے مہمانی ہے۔“ اچھے اور برے عقیدہ کا نتیجہ : (عَنِ الْبَرَآءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیْ جَنَازَۃِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَانْتَہَیْنَا إِلَی الْقَبْرِ وَلَمَّا یُلْحَدْ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وْسِنَا الطَّیْرَ وَفِیْ یَدِہٖ عُودٌ یَنْکُتُ بِہٖ فِی الأَرْضِ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ فَقَالَ اسْتَعِیْذُوْا باللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلاَثاً........قَالَ فَتُعَادُ رُوحُہٗ فِیْ جَسَدِہٖ فَیَأْتِیْہِ مَلَکَانِ فَیُجْلِسَانِہٖ فَیَقُوْلاَنَ لَہٗ مَنْ رَّبُّکَ فَیَقُوْلُ رَبِّیَ اللّٰہُ فَیَقُوْلاَنِ لَہُ مَا دِیْنُکَ فَیَقُوْلُ دینِیَ الإِسْلاَمُ فَیَقُوْلاَنِ لَہُ مَا ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِیْ بُعِثَ فِیْکُمْ فَیَقُوْلُ ہُوَ رَسُوْلُ اللّٰہِ فَیَقُوْلاَنِ لَہٗ وَمَا عِلْمُکَ فَیَقُوْلُ قَرَأْتُ کِتَاب اللَّہِ فَآمَنْتُ بِہٖ وَصَدَّقْتُ فَیُنَادِیْ مُنَادٍ فِی السَّمَآءِ أَنْ صَدَقَ عَبْدِیْ فَأَفْرِشُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَأَلْبِسُوْہُ مِنَ الْجَنَّۃِ وَافْتَحُوْا لَہٗ بَاباً إِلَی الْجَنَّۃِ قَالَ فَیَأْتِیْہِ مِنْ رَّوْحِہَا وَطِیْبِہَا وَیُفْسَحُ لَہٗ فِیْ قَبْرِہِ مَدَّ بَصَرِہٖ قَالَ وَیَأْتِیْہِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الثِّیَابِ طَیِّبُ الرِّیْحِ فَیَقُولُ أَبْشِرْ بالَّذِیْ یَسُرُّکَ ہٰذَا یَوْمُکَ الَّذِیْ کُنْتَ تُوعَدُ فَیَقُوْلُ لَہٗ مَنْ أَنْتَ فَوَجْہُکَ الْوَجْہُ یَجِیْٓءُ بالْخَیْرِ فَیَقُوْلُ أَنَا عَمَلُکَ الصَّالِحُ فَیَقُوْلُ رَبِّ أَقِمِ السَّاعَۃَ حَتّٰی أَرْجِعَ إِلآی أَہْلِیْ وَمَالِیْ)[ رواہ أحمد وہو حدیث صحیح] ” حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک انصاری کے جنازے کے لیے نکلے۔ ہم قبرستان گئے تو ابھی تک قبر تیار نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زمین کرید رہے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو۔ دو مرتبہ فرمایا.......... اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ دو فرشتے آکر اسے بٹھا لیتے ہیں۔ اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ تیر ادین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے۔ پھر پوچھتے ہیں کہ وہ آدمی کون ہے جو تم میں مبعوث کیا گیا ؟ وہ کہتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ فرشتے اس سے کہتے ہیں تجھے کیسے علم ہوا؟ وہ کہتا ہے میں نے اس کے بارے میں اللہ کی کتاب میں پڑھا، اس پر ایمان لایا۔ میں نے اس کی تصدیق کی۔ پھر اعلان کرنے والا آسمان میں اعلان کرتا ہے۔ میرے بندے نے سچ کہا۔ تم اس کے لیے جنتی بستر بچھا دو، اسے جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے دروازہ کھول دو۔ راوی کہتے ہیں اس کے پاس جنت کی خوشبوئیں اور ہوائیں آتی ہیں۔ اس کی قبر کو اس کی حد نگاہ تک کشادہ کردیا جاتا ہے۔ اس کے پاس ایک خوبصورت چہرے اور بہترینلباس والاآدمی آئے گا۔ وہ کہے گا تو اس چیز سے خوش ہوجاؤ جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ آدمی اس سے پوچھتا ہے کہ آپ کون ہیں ؟ آپ کا چہرہ تو ایسا ہے جو بھلائی لانے والا۔ پس وہ کہے گا میں تیرا نیک عمل ہوں۔ بندہ کہے گا اے میرے رب قیامت قائم کر دے۔ یہاں تک کہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال کی طرف لوٹ جاؤں۔“ عقیدہ اور دین پر استقامت کی دعا : (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَقُوْلُ یَا وَلِیَ الإِْسْلَامِ وَأَہْلِہٖ ثَبِّتْنِیْ حَتّٰی أَلْقَاکَ )[ رواہ الطبرانی : فی الأوسط وہوحدیث صحیح ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے تھے کہ اے سلامتی کے مالک اور اس کے اہل ! مجھے اسلام پر ثابت قدم رکھ۔ یہاں تک کہ تجھ سے آملوں۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن مومن اور کافر کا فرق : ١۔ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ (السجدۃ: ١٨) ٢۔ جنتی اور جہنمی برابر نہیں ہیں۔ (الحشر : ٢٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت میں ثابت قدم فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے۔ (ابراہیم : ٢٧) ٤۔ فرشتے مومن کی روح قبض کرتے وقت سلام کہتے ہیں۔ (النحل : ٣٢) ٥۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ: ٣٩) ٦۔ کفار کی روح قبض کرتے وقت فرشتے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر مارتے ہیں۔ (الانفال : ٥٠) ٧۔ ایمان لانے والے اور نیک عمل کرنے والے جنت میں جائیں گے۔ (البقرۃ: ٨٢) ٨۔ موت کے وقت فرشتے فاسق کو کہتے ہیں کہ آج تجھے عذاب دیا جائے گا۔ (الانعام : ٩٣)