سورة ابراھیم - آیت 22

وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ ۖ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي ۖ فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم ۖ مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ ۖ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ ۗ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اور جب پورے کام کا فیصلہ کردیا جائے گا تو شیطان کہے گا بے شک اللہ نے تم سے جو وعدہ کیا تھا سچا وعدہ ہوا اور میں نے جو تم سے وعدہ کیا اس کی خلاف ورزی کی اور میرا تم پر کوئی زور نہ تھا، سوائے اس کے کہ میں نے تم کو بلایا تم نے میرا کہنا مان لیا، ابمجھے ملامت نہ کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو، نہ میں تمہاری فریاد رسی کرنے والاہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کرنے والے ہو، یقیناً میں اس کا انکار کرتا ہوں جو تم نے مجھے شریک بنایا۔ یقیناً جو لوگ ظالم ہیں ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“ (٢٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں کا جمع ہو کر شیطان کے پاس جانا۔ قرآن مجید کے سیاق و سباق سے معلوم ہو رہا ہے کہ چھوٹے بڑے جہنمی آپس میں بحث و تکرار اور جھگڑنے کے بعد شیطان اکبر کے پاس جائیں گے۔ اس کے سامنے آہ وزاریاں کرتے ہوئے فریادیں کریں گے کہ ہم سب تیری وجہ سے گمراہ ہوئے اور جہنم میں پہنچے۔ تودنیا میں ہمیں بڑی امیدیں دلایا کرتا اور ہمارے دلوں میں جھوٹی تسلیاں پیدا کرتا تھا، اب بتاکہ ہمارے لیے جہنم سے نکلنے کا کوئی راستہ ہوسکتا ہے اس حال میں تو ہماری کیا مدد کرسکتا ہے؟ شیطان اکبر سب سے زیادہ اذیتوں اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ وہ ان سے بھی زیادہ درماندگی اور ذلت و رسوائی کے لہجے میں جواب دے گا کہ میں اپنے اور تمہارے لیے کچھ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ احکم الحاکمین نے حق وانصاف کے ساتھ فیصلہ صادر کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنتیوں کے لیے جنت اور جہنمیوں کے لیے جہنم کا جو وعدہ کیا تھا وہ سچا تھا اور اسے سچ کر دکھایا۔ جہاں تک میرے وعدے اور امیدیں دلانے کا تعلق ہے وہ امیدیں فریب تھیں اور میرے وعدے سب جھوٹے تھے۔ یہ سنتے ہی جہنمی اس پر پھٹکار کریں گے جب جہنمی اس پر لعنتیں بھیجیں گے تو وہ یہ کہتے ہوئے ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرے گا کہ میں نے تمھارا ہاتھ کھینچ کریا کسی جبر کے ذریعے اپنے پیچھے نہیں لگایا تھا۔ میں تمہارے دل میں برے خیالات، جھوٹی امیدیں اور تسلیاں پیدا کرتا تھا۔ تم نے یقین کیا اور ان کے پیچھے لگے لہٰذا آج مجھے ملامت کرنے کی بجائے اپنے آپ کو لعن طعن اور ملامت کرو۔ نہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں اور نہ تم میرے کام آسکتے ہو۔ دنیا میں میرے وسوسہ ڈالنے کی وجہ سے جو تم مجھے اللہ کا شریک بناتے اور میری پیروی کرتے رہے اس کا میں آج کھلم کھلا انکار کرتا ہوں۔ اس گفتگو کے دوران ملائیکہ ان پر لعنتیں برسائیں گے۔ اعلان ہوگا کہ ظالموں کے لیے اذیت ناک عذاب ہے۔ جہنم میں شیطان اکبر اپنی براءت کا اظہار کرتے ہوئے جہنمیوں کے شرک کو اپنی طرف منسوب کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کفر و شرک کرنے والے بظاہر جس کسی کے سامنے جھکیں یا سجدہ کریں اللہ تعالیٰ کے سوا جسے بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھیں ان کا ایسا کرنا شیطان کے حکم اور وسوسہ کے تابع ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ کے سوابظاہر کسی کی بھی عبادت کی جائے درحقیقت وہ شیطان کی عبادت ہوتی ہے۔ اس لیے قیامت کے دن ایک موقع ایسا بھی آئے گا جب اللہ تعالیٰ مجرموں کو الگ کر کے خطاب فرمائیں گے کہ اے آدم کی اولاد! کیا میں نے تم سے عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ صرف میری عبادت کرنا یہی سیدھا راستہ ہے مگر شیطان نے تم میں بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا۔ تم نے کچھ بھی عقل سے کام نہ لیا۔ لہٰذا یہ ہے وہ جہنم جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا۔ اپنے کفر کی وجہ سے اس میں داخل ہوجاؤ۔ ( یٰس : ٥٩ تا ٦٤) مسائل ١۔ قیامت کے دن شیطان اللہ تعالیٰ کے وعدے کو سچا قرار دے گا۔ ٢۔ شیطان کے وعدے جھوٹے ہیں۔ ٣۔ قیامت کے دن شیطان شرک اور اپنی شرارتوں سے صاف انکار کرے گا۔ ٤۔ ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔