سورة الرعد - آیت 20

الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَلَا يَنقُضُونَ الْمِيثَاقَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور پختہ عہد کو نہیں توڑتے۔“ (٢٠)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ آیات میں عقیدہ توحید کے دلائل دیے گئے ہیں۔ توحید کا عقیدہ اللہ تعالیٰ سے انسان ایک عہد ہے۔ صاحب بصیرت اور حقیقی سمجھ رکھنے والے لوگ اس عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔ صاحب بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط عہد کا ایفا کرتے ہیں اور اسے کسی صورت بھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔ اس عہد سے مراد پہلا عہد وہ ہے جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے اے انسان جب تیرے رب نے بنی نوع انسان کی پشت سے نسل درنسل اس کی اولاد کو پیدا کیا اور ان کو انہی کے اوپر گواہ بناتے ہوئے استفسار فرمایا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں؟“ آدم (علیہ السلام) کی ساری کی ساری اولاد نے اپنے رب کے حضور یہ اعتراف کیا۔ ” کیوں نہیں آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ ہم اس کی گواہی دیتے ہیں۔ گواہی لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس عہد کو یاد رکھنا اور اس پر پکے رہنا کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن کہو کہ ہمیں تو اس عہد کی کوئی خبر نہیں۔“ (سورۃ الاعراف : ١٧٢) اسی عہد کا یہاں اختصار کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو لوگ اس عہد یعنی توحید کی گواہی پر پکے رہے اور اس میں کوئی نقص نہیں آنے دیتے، یہ لوگ صاحب بصیرت اور صحیح عقل کے مالک ہیں۔ یہی وہ عہد ہے جس کا اقرار کرتے ہوئے آدمی حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور اس کے تقاضے پورے کرنے سے مسلمان کی زندگی کے تمام زاویے صحیح سمت پر قائم رہتے ہیں۔ جس کو موت کے وقت اس کا اقرار نصیب ہوا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس عہد کے ساتھ لوگوں سے کیے ہوئے عہد کی پابندی بھی فرض ہے۔ جو مسلمان اپنے مسلمان بھائی یا کسی غیر مسلم کے ساتھ انفرادی یا اجتماعی سطح پر کرتے ہیں۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ یَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ شَعِیْرَۃٍ مِّنْ خَیْرٍ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ، وَفِی قَلْبِہٖ وَزْنُ بُرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ، وَیَخْرُجُ مِنَ النَّارِ مَنْ قَال لاآ إِلَہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَفِیْ قَلْبِہٖ وَزْنُ ذَرَّۃٍ مِّنْ خَیْرٍ )[ رواہ البخاری، کتاب الایمان، باب زِیَادَۃِ الإِیمَانِ وَنُقْصَانِہِ] ” حضرت انس (رض) نبی کریم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ جہنم سے نجات پا گیا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو کی مقدار کے برابر بھی بھلائی ہوگی۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں چاول کے کے برابر بھلائی ہوگی وہ بھی جہنم سے نکل گیا۔ جس شخص نے لا الہ الا اللہ کہا، اس کے دل میں رائی کے ذرے کے برابر بھی بھلائی ہوگی تو وہ بھی جہنم سے چھٹکارا پا گیا۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ (رض) قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِیُّ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلاَّ قَال لاآ إِیْمَانَ لِمَنْ لاّآأَمَانَۃَ لَہٗ وَلا دینَ لِمَنْ لاَّ عَہْدَ لَہٗ )[ رواہ أحمد] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی ہمیں خطبہ دیا آپ نے فرمایا اس شخص کا کوئی ایمان نہیں جو امانت دار نہیں اور جو عہد کی پاسداری نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں۔“ (عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ عِنْدَ اِسْتِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔ وَفِیْ رَوَایَۃٍ لِکُلِّ غَادِرٍ لِوَآءٌ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرْفَعُ لَہٗ بِقَدَرِ غَدْرِہٖ اَ لَاوَلَا غَادِرَ اَعْظَمُ غَدْرًا مِّنْ اَمِیْرِ عَامَّۃٍ)[ رواہ مسلم] ” حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن انسان کی دبر کے قریب جھنڈا ہوگا۔ ایک روایت میں ہے ہر عہد شکن کے لیے قیامت کے دن جھنڈا ہوگا‘ جو اس کی عہد شکنی کے مطابق بلند کیا جائے گا۔ خبردار! سربراہ مملکت سے بڑھ کر کسی کی عہد شکنی نہیں ہوتی۔“ مسائل ١۔ عقیدۂ توحید اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ٣۔ عہد کو توڑنا نہیں چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عہد سے پہلی مراد عقیدہ توحید ہے : ١۔ وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اسے توڑتے نہیں۔ (الرعد : ٢٠) ٢۔ اللہ نے نسل انسانی سے اپنی ربوبیت کا عہد لے رکھا ہے۔ (الاعراف : ١٧٢) ٣۔ اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو پورا کرو۔ (الانعام : ١٥٢) ٤۔ اللہ کا وعدہ پورا کرو۔ (البقرۃ : ٤٠) ٥۔ اللہ کے عہد کا پورا کرنا فرض ہے۔ (النحل : ٩١)