سورة یوسف - آیت 83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى اللَّهُ أَن يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

’ اس نے کہا بلکہ تمہارے لیے تمہارے دل نے یہ کام خوبصورت بنا دیا ہے، میں اچھا صبر کروں گا امید ہے کہ اللہ ان سب کو میرے پاس لے آئے گا، یقیناً وہی سب کچھ جاننے اور حکمت والا ہے۔“ (٨٣)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اپنے بیٹوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ارشاد۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے دو وجہ سے بنیامین پر چوری کے الزام اور اپنے بیٹوں کی باتوں کو مسترد کیا۔ پہلی و جہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت باپ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ میرا بیٹا بنیامین چوری نہیں کرسکتا کیونکہ اس نے اس سے پہلے کبھی ایسی غلطی نہیں کی۔ ایسا نیک اور دیانتدار بچہ پردیس میں جاکر کس طرح غلطی کرسکتا ہے۔ پھر وہ وہاں رہنے کے لیے نہیں بلکہ مجبوری کے عالم میں غلہ لینے کے لیے گیا ہے۔ ایسی صورت میں چوری کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس لیے بھی اپنے بیٹوں کی باتوں پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا کہ وہ جانتے تھے کہ یہ پہلے بھی یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی زیادتی کرچکے ہیں۔ اس وجہ سے ان پر اعتماد نہ کرنا ایک فطری بات تھی۔ اسی و جہ سے انہوں نے یہ فرمایا کہ تم خواہ مخواہ ایک کہانی بنا کر میرے سامنے پیش کر رہے ہو جسے بنانا اور بیان کرنا تمہارے دل نے تمہارے لیے آسان کردیا ہے۔ میں صبر جمیل کے سوا اور کیا کرسکتا ہوں۔ تاہم مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور تینوں کو میرے پاس لائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم اور فیصلہ میں حکمت ہوتی ہے۔ (قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنْفُسُکُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ )[ یوسف : ١٨] ” یعقوب (علیہ السلام) نے کہا بلکہ تم نے ایک بات کو بنا سنوار لیا ہے۔ خیر صبرہی بہتر ہے۔“ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ الفاظ اس وقت بھی کہے تھے جب انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر کہا تھا۔ ابا جان! جب ہم کھیل کود میں ایک دوسرے سے بہت آگے نکل گئے پیچھے سے بھیڑیے نے یوسف کو کھالیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت بھی فرمایا تھا جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ میری مدد فرمائے گا۔ اللہ اللہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کتنا بڑا حوصلہ اور ایمان ہے کہ دوسرے بڑے سانحہ اور یوسف (علیہ السلام) کی طویل جدائی کے باوجود پہلے سے بڑھ کر نہ صرف صبر کا مظاہرہ کیا بلکہ بے انتہا پریشانی کے وقت بھی فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہمیں ہماری زندگی میں جمع فرمائے گا۔ مجھے جو عظیم صدمہ کے بعد دوبارہ بڑا صدمہ پہنچا ہے اس کی حکمت اللہ ہی جانتا ہے۔ انشاء اللہ میں اس پر صبر جمیل کروں گا۔ پہلے بھی عرض کیا ہے کہ صبر جمیل سے مراد ایسا صبر جس میں کسی قسم کا گلہ شکوہ اور جزع فزع نہ پایا جائے۔ (عَنْ صُہَیْبٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَجَبًا لأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَہُ کُلَّہُ خَیْرٌ وَلَیْسَ ذَاکَ لأَحَدٍ إِلاَّ لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْہُ سَرَّاءُ شَکَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ وَإِنْ أَصَابَتْہُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَکَانَ خَیْرًا لَہُ ) [ رواہ مسلم : باب الْمُؤْمِنُ أَمْرُہُ کُلُّہُ خَیْرٌ] ” حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کا عجیب معاملہ ہے اس کے تمام معاملات میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ سعادت کسی اور کے نصیبے میں نہیں اگر مومن کو خوشحالی ملے تو وہ شکر کرتا ہے تو وہ بھی اس کے لیے باعث خیر ہے اور اگر وہ پہنچنے والی تکلیف پر صبر کرے تو وہ بھی اس کے حق میں بہتر ہے۔“ اولاد منہ زور ہوجائے تو والدین کو درج ذیل ہدایات پر عمل کرنا چاہیے : (یَاأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ وَأَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْ وَإِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا وَتَغْفِرُوْا فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللّٰہُ عِنْدَہُ أَجْرٌ عَظِیْمٌ )[ التغابن : ١٤۔ ١٥] ” اے ایمان والو! تمہاری بیویوں میں سے اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں۔ ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور انہیں بخش دو تو اللہ یقیناً بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ یقیناً تمھارے مال اور اولاد آزمائش ہیں اور اللہ کے ہاں بہترین اجر ہے۔“ مسائل ١۔ مومن کو صبر کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سے حالات بدلنے کی امید اور دعا کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر بات جاننے اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن صبر اور اس کا اجر : ١۔ صبر ہی بہتر ہے۔ (یوسف : ٨٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بغیر حساب کے اجردے گا۔ (الزمر : ١٠) ٣۔ صبر کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بہترین صلہ دیا جائے گا۔ (النحل : ٩٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ صبر کا بدلہ جنت اور ریشم کی صورت میں دے گا۔ (الدھر : ١٢) ٥۔ صبر کیجیے اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ (ھود : ١١٥)