سورة یوسف - آیت 66

قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّىٰ تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلَّا أَن يُحَاطَ بِكُمْ ۖ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَىٰ مَا نَقُولُ وَكِيلٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اس نے کہا میں اسے تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا، یہاں تک کہ تم میرے ساتھ اللہ کی قسم اٹھا کر پختہ عہد کرو کہ تم ہر صورت اسے میرے پاس لاؤ گے، مگر یہ کہ تمہیں گھیر لیا جائے۔ پھر جب انہوں نے پختہ وعدہ کرلیا تو اس نے کہا اللہ اس پر ضامن ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔“ (٦٦)’

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن : (آیت 66 سے 67) ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بیٹوں کے اصرار پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مجبور ہو کربنیامین کو بھا ئیوں کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ ہونا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) یہ فرماتے ہوئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہیں کہ میں بنیامین کو اس وقت تک ہرگز تمھارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک اللہ کا نام لے کر میرے ساتھ پختہ وعدہ نہ کرو کہ اسے ضرور میرے پاس واپس لاؤ گے۔ الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ جب انھوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر عہد دیا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ ہی ہمارے قول و اقرار پر نگران ہے۔ پھر فرمانے لگے کہ بیٹا شہر کے ایک دروازے سے اندر داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا۔ میں تمھیں اللہ کی تقدیر سے نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ بالآخر حکم اللہ ہی کا غالب آیا کرتا ہے۔ اس تجویزکو پیش کرنے کا یہ مقصد نہیں کہ میرا اللہ پر بھروسہ نہیں ہے۔ میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور ہر بھروسہ رکھنے والے کو اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیٹوں سے حلف لیتے ہوئے یہ فرمانا کہ تم ضرور میرے پاس بنیا میں کو واپس لاؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مصر میں امن وامان کا مسئلہ بھی پیدا ہوچکا تھا جو قحط سالی کے دور میں پیدا ہوجایا کرتا ہے کیونکہ کچھ عناصر اپنی ضروریات کے حصول کے لیے مار دھاڑ کا طریقہ اختیار کرلیتے ہیں۔ ایسی صورت میں مضبوط سے مضبوط حکومت کا نظم و ضبط کمزور ہوجایا کرتا ہے۔ ان حالات میں گیارہ آدمیوں کا جتھا جو کہ ایک سے ایک بڑھ کر کڑیل جوان ہو ایسے اجنبیوں کو انتظامیہ مشکوک نگاہوں سے دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دفعہ ایک سو چوالیس کی طرح کوئی قانون نافذ کر رکھا ہو۔ ایسی صورت حال کے پیش نظر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ مشورہ دیا کہ تم وہاں اجنبی اور پردیسی ہو گے اس لیے تمھیں جتھے کی شکل میں ایک ہی دروازے سے داخل ہونے کے بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہونا چاہیے۔ اس تجویز پر عمل کرنے کے ساتھ تمھارا اللہ پر مضبوط ایمان اور بھروسہ ہونا چاہیے۔ اللہ اپنی ذات پر بھروسہ کرنے والوں کے معاملات آسان فرما دیتا ہے۔ توکل کا معنی ہے کسی پر اعتماد اور بھروسہ کرنا۔ توکل علی اللہ کا یہ مفہوم ہوا کہ بندہ اپنے خالق و مالک پر کامل اعتماد و یقین کا اظہار کر رہا ہے۔ جو اپنے رب پربھروسہ اور توکل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور اس کی مشکلات آسان کردیتا ہے۔ لہٰذا تنگی اور آسانی‘ خوشی اور غمی میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یہ غموں کا تریاق اور مشکلات کا مداوا ہے۔ ﴿وَمَنْ یَّتَوَ کَّلْ عَلٰی اللّٰہِ فَھُوَحَسْبُہٗ إِنَّ اللّٰہَ بَالِغُ أَمْرِہٖ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لِکُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا﴾ [ الطلاق :3] ” جو اللہ پربھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا حکم نافذ کرکے رہتا ہے اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔“ ﴿وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ﴾ [ یوسف :67] ” اس پر ہی بھر وسہ کرنے والوں کو اعتماد کرنا چا ہیے۔“ قرآن و سنت کی روشنی میں توکل کا کامل تصور یہ بنتا ہے کہ وسائل اور اسباب کو استعمال کرتے ہوئے کام کا نتیجہ اور انجام اللہ کے سپرد کیا جائے۔ توکل پریشانیوں سے نجات پانے کا پہلا ذریعہ ہے اگر کسی کا اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور توکل ہی نہیں تو اس کے مسائل: کس طرح حل ہوں گے؟ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ () لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا)[ رواہ الترمذی : کتاب الزہد، باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔“ مسائل: 1۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے پختہ عہد لیا۔ 2۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے قول وعمل پر گواہ ہوتا ہے۔ 3۔ اپنی اولاد کو نصیحت کرنی چاہیے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا۔ 5۔ اللہ تعالیٰ پرہی ہر کسی کو توکل کرنا چاہے۔ تفسیر بالقرآن : توکل علی اللہ کے فوائد : 1۔ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں اور توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں۔ (یوسف :67) 2۔ جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے اللہ اسے کافی ہوجاتا ہے۔ (الطلاق :3) 3۔ اللہ توکل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (آل عمران :159) 4۔ اللہ صبر کرنے والوں اور توکل کرنے والوں کو بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ (العنکبوت :59) 5۔ اللہ پر ایمان لانے والوں اور توکل کرنے والوں کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ (الشوریٰ :36)