سورة یوسف - آیت 41

يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ۖ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ ۚ قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے قید خانے کے ساتھیو! تم میں سے جو ایک ہے وہ اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور جو دوسرا ہے اسے سولی دی جائے گی، پرندے اس کے سرکوکھائیں گے۔ جس کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو اس کام کا فیصلہ ہوچکا۔“ (٤١) فہم القرآن

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے قید کے ساتھیوں کو عقیدۂ توحید سمجھانے اور شرک کی نفی کرنے کے بعد ان کے خواب کی تعبیر بتلاتے ہیں۔ اب پھر دلربا لہجے میں فرمایا کہ اے میرے قید کے ساتھیو! تم میں سے ایک تو جیل سے رہا ہو کر اپنی ڈیوٹی پر بحال ہوگا اور اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا۔ اور دوسرا تختۂ دار پر لٹکایا جائے گا۔ اس کا سر پرندے نوچیں گے۔ جن خوابوں کی تعبیر تم پوچھ رہے ہو ان کی حقیقت یہ ہے اور ایسا ہی ہوگا۔ کیونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ پیغمبر ظاہری حسن و جمال اور صالح کردار ہونے کے ساتھ انتہائی ذہین اور سمجھ دار ہوا کرتا ہے۔ چنانچہ غور فرمائیں کہ تعبیر بتلاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کس قدر دانائی اور ہوشمندی کا مظاہرہ کیا ہے۔ حالانکہ معلوم تھا کہ اس قیدی نے خواب میں اپنے آپ کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرے نے اپنے سر پر اٹھائی ہوئی روٹیاں پرندوں کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن خواب کی تعبیر بتلاتے ہوئے پھانسی لگنے والے شخص کو براہ راست یہ نہیں فرمایا کہ تم پھانسی لگ جاؤ گے۔ حالانکہ وہ دو میں سے ایک تھا۔ اس کے باوجود ایسا انداز اختیار فرمایا۔ جس سے اسے کم سے کم صدمہ پہنچے۔ اپنی بتلائی ہوئی تعبیر پر اس قدر یقین ہے کہ فرمایا جو میں نے بتلایا ہے اس کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ تعبیر پر اس لیے یقین تھا کیونکہ انہیں پہلے بتلا چکے تھے کہ میرے رب نے مجھے خوابوں کی تعبیر اور اپنی طرف سے علم عنایت فرمایا ہے۔ اسی وجہ سے قیدیوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جناب یوسف (علیہ السلام) نے رہائی پانے والے قیدی کو شراب پلانے سے منع کیوں نہ کیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اسے منع کرنے کا فائدہ تو تبھی ہوسکتا تھا کہ اگر وہ اللہ کی توحید کا اقرار اور آخرت پر ایمان لانے کا اظہار کرتا۔ اس کا ثبوت تاریخ کے کسی حوالے سے موجود نہیں ہے کہ اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کلمہ پڑھ لیا ہو۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مشروب کے لیے بھی شراب کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی ہر پینے والی چیز شراب ہوتی ہے۔ جس سے منع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ شراب پینے والے کی سزا : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌوَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِی الدُّنْیَا فَمَاتَ وَ ھَوَ یُدْمِنُھَا لَمْ یَتُبْ لَمْ یَشْرَ بْھَا فِی الْاٰخِرَۃِ) [ رواہ مسلم : باب بیان ان کل مسکر خمر] ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا‘ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ جو شخص دنیا میں شراب پیتا ہوا فوت ہوا، اس نے توبہ نہ کی آخرت میں اسے جنت کی شراب نہیں ملے گی۔“ (عَنِ السَّاءِبِ بْنِ یَزِیْدَ (رض) (رض) قَالَ کُنَّا نُؤْتٰی بالشَّارِبِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَإِمْرَۃِ أَبِیْ بَکْرٍوَصَدْرًا مِنْ خِلَافَۃِ عُمَرَفَنَقُوْمُ إِلَیْہِ بِأَیْدِیْنَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِیَتِنَا حَتّٰی کَانَ آخِرُإِمْرَۃِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِیْنَ حَتّٰی إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوْا جَلَدَ ثَمَانِیْنَ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب الضرب بالجرید والنعال] ” حضرت سائب بن یزید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں اور ابو بکر و عمر (رض) کے ابتدائی دور میں شرابی پکڑادیا جاتا۔ ہم اسے اپنے ہاتھوں، جوتوں اور چادروں کے ساتھ مارتے اور جب عمر (رض) کی خلافت کا آخری دور آیا تو انہوں نے چالیس کوڑے مارے۔ جب لوگ شراب نوشی میں بڑھ گئے تو پھر عمر (رض) نے اسی کوڑے مارے۔“ (عَنِ ابْنَ عُمَرَ (رض) یَقُولُ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَعَنَ اللَّہُ الْخَمْرَ وَشَارِبَہَا وَسَاقِیَہَا وَبَاءِعَہَا وَمُبْتَاعَہَا وَعَاصِرَہَا وَمُعْتَصِرَہَا وَحَامِلَہَا وَالْمَحْمُولَۃَ إِلَیْہِ )[ رواہ ابو داؤد : باب العنب یعصر للخمر] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے شراب پر اس کے پینے اور پلانے والے، بیچنے اور خریدنے والے، بنانے اور بنوانے والے اور اس کو اٹھانے اور اٹھوانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔“ مسائل ١۔ دین کی تبلیغ حکمت کے ساتھ کرنی چاہیے۔ ٢۔ دین کی بنیاد عقیدہ توحید ہے۔ دین مضبوط دلائل پر مبنی ہے۔