سورة ھود - آیت 66

فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت کے ساتھ بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب بڑی قوت والا اور سب پر غالب ہے۔“ (٦٦) ”

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حسب وعدہ عذاب کا نازل ہونا، حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کا نجات پانا۔ قرآن مجید اس واقعہ کی یوں تفصیل بیان کرتا ہے۔ کہ ثمود نے سرکشی کی بنا پر حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا۔ پھر ان کا سب سے بڑا بدبخت اٹھا اور اس نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس بات کو مسترد کیا جو انہوں نے فرمائی تھی کہ اس اونٹنی کو پانی پینے دینا۔ اس بدبخت نے اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ ڈالیں۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کیا اور ان کو زمین بوس کردیا۔ ( الشمس : ١١ تا ١٥) بدبخت قوم نے یہ قسمیں بھی اٹھائیں۔ کہ ہم صالح (علیہ السلام) کو اس کے اہل وعیال سمیت ختم کر ڈالیں گے۔ (النمل : ٤٩) چنانچہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے صالح اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو اس دن کی ذلت سے بچالیا۔ یقیناً آپ کا رب بڑا طاقتور اور ہمیشہ غالب رہنے والا ہے۔ ظالموں کو ایک چیخ نے آلیا اور وہ اپنے گھروں میں الٹے منہ پڑے ہوئے اس طرح ہوگئے جیسے وہ کبھی آباد ہی نہ ہوئے تھے۔ خبردار! بلاشک ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا۔ خبردار! قوم ثمود کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پھٹکار دیا گیا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ جب قوم صالح پر عذاب آیا اس کی کیفیت اس طرح سے تھی کہ پہلے دن ثمودیوں کے چہرے زرد ہوئے دوسرے دن سرخ ہوئے اور تیسرے دن سیاہ اور چوتھے دن انہیں چیخ نے آلیا جس کی ہیبت سے ان کے کلیجے پھٹ گئے اور وہ اپنے گھروں میں منہ کے بل گر پڑے۔ مسائل ١۔ اللہ کے عذاب سے وہی بچ سکتا ہے جسے اللہ محفوظ فرمائے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ بڑی قوت اور غلبہ والا ہے۔ ٣۔ قوم ثمود پر چیخ کی صورت میں عذاب آیا۔ ٤۔ قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا۔ ٥۔ ثمودیوں کا اللہ تعالیٰ نے نام و نشان مٹا دیا۔ ٦۔ قوم ثمود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئی۔ تفسیر بالقرآن دھتکاری اور پھٹکاری ہوئی اقوام : ١۔ قوم ثمود کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٨) ٢۔ مدین والوں کا نام ونشان مٹ گیا۔ قوم ثمود کی طرح مدین والوں کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٩٥) ٣۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا۔ قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٠) ٤۔ یہودیوں پر اللہ نے ذلت و محتاجی مسلط کردی۔ (البقرۃ: ا ٦) ٥۔ یہودی اللہ کے غضب کے ساتھ لوٹے۔ (البقرۃ : ٩٠) ٦۔ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ نے لعنت کی۔ (المائدۃ: ٧٨) ٧۔ کفار پر اللہ، اس کے ملائکہ اور کائنات کی ہر چیز لعنت کرتی ہے۔ (البقرۃ: ١٦١)