سورة ھود - آیت 57

فَإِن تَوَلَّوْا فَقَدْ أَبْلَغْتُكُم مَّا أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَيْكُمْ ۚ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّي قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّونَهُ شَيْئًا ۚ إِنَّ رَبِّي عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

پھر اگر تم پھر جاؤ تو بلاشبہ میں نے تمہیں پیغام پہنچا دیا۔ جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمہارے سوا کسی اور قوم کو تمہاری جگہ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر پوری طرح نگہبان ہے۔“ (٥٧)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

چلے گا۔ کیونکہ جب وہ اپنے حفظ و امان کا ہاتھ پیچھے ہٹا لیتا ہے تو پھر کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔ عنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ) (متفق علیہ) ” حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) ذکر کرتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ ” صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے اس کا کسی لحاظ سے کوئی شریک نہیں اس کی حکمرانی ہے‘ وہی تعریفات کے لائق ہے اور وہ ہر چیز پر اقتدار اور اختیار رکھنے والاہے۔ الٰہی جسے تو کوئی چیز عنایت فرمائے اسے کوئی نہیں روک سکتا اور جو تو روک لے وہ کوئی دے نہیں سکتا۔ تیری کبریائی کے مقابلے میں کسی بڑے کی بڑائی فائدہ نہیں دے سکتی۔“ مسائل ١۔ انبیاء (علیہ السلام) کسی کے گناہوں کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ ٢۔ انبیاء (علیہ السلام) کا کام اللہ تعالیٰ کے پیغام پہچانا ہوتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے ایک قوم کی جگہ دوسری قوم لے آتا ہے۔ ٤۔ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ٥۔ اللہ ہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے : ١۔ بے شک میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (ھود : ٥٧) ٤۔ اللہ تم پر نگہبان ہے۔ (الشوریٰ : ٦) ٢۔ تیرا رب ہر چیز کی حفاظت کرنے والا ہے۔ (سبا : ٢١) ٣۔ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز پر کارساز ہے۔ (آل عمران : ١٠٢) ٥۔ اللہ پر توکل کرو، اللہ بہترین کارساز ہے۔ (الاحزاب : ٣)