سورة یونس - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اللہ کے نام سے جو بے حدرحم والا، نہایت مہربان ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۂ یونس کا تعارف سورۃ کا نام حضرت یونس (علیہ السلام) کے نام پر رکھا گیا حضرت یونس (علیہ السلام) کا اسم مبارک اس سورۃ کی آیت ٩٨ میں موجود ہے۔ سورۃ کے گیارہ رکوع ١٠٩ آیات ہیں۔ چند آیات مدنی ہیں باقی تمام آیات مکی دور میں نازل ہوئی ہیں۔ سب سے پہلے رسول کی بشریت کا انکار کرنے والوں کا رد کیا گیا ہے۔ رسول کی بشریت اور نبوت ثابت کرنے کے بعد توحید کے ٹھوس دلائل دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زمین، آسمانوں کا پیدا کرنے والا اور وہی ان کا نظام چلانے والا ہے۔ زمین و آسمانوں کی تخلیق اور کائنات کے نظام چلانے میں اللہ کا کوئی شریک اور معاون نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے سورج اور چاند بنائے، ان کی منزلیں مقرر کیں اور وہی رات اور دن کو بنانے والا ہے۔ مشرک کی عادت یہ ہے کہ وہ صرف مصیبت کے وقت اپنے رب کو پکارتا ہے مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے۔ مشرک ان سے مدد طلب کرتا اور ان کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتا ہے جو نفع و نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔ مشرک قرآن مجید کے دلائل کی تاب نہ لاکر مطالبہ کرتے ہیں کہ قرآن مجید کو بدل دیا جائے۔ دنیا عارضی ہے اور اس کی مثال گھاس پھونس کی مانند ہے۔ آخرت یقینی اور ابدی ہے۔ قرآن مجید کو جھٹلانے والوں کو اس سورۃ میں ایک سورۃ بنا لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسول سے کہلوایا گیا ہے کہ میں بھی اپنے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ قرآن مجید بہترین نصیحت اور نسخۂ شفا ہے۔ اللہ تعالیٰ اولاد سے پاک اور بے نیاز ہے۔ سورۂ یونس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا مختصر بیان ہوا ہے۔ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا گیا مگر فرعون کی لاش عبرت کے لیے باقی رکھی گئی۔ قوم یونس کی اجتماعی توبہ کی وجہ سے ان کے سروں پر منڈلانے والا عذاب ٹال دیا گیا۔ آخر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے مشرکوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ تم اللہ کی ذات میں شک کرتے ہو تو کرو میں تو صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی مدد کرنا اپنے آپ پر لازم کر رکھا ہے۔