سورة التوبہ - آیت 29

قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” لڑو ان لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ یوم آخرت پر اور نہ ان چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو اختیار کرتے ہیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور وہ ذلیل ہوں۔“ (٢٩)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہاد فی سبیل اللہ کے مسائل کے دوران دیگر مسائل کا تذکرہ ہوا۔ اب پھر قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے پہلی مراد مشرک، دوسرے اہل کتاب اور کفار ہیں۔ کیونکہ مشرک اللہ تعالیٰ پر اس طرح ایمان نہیں رکھتا جس طرح اللہ پر بلا شرکت غیر ایمان لانا فرض ہے اور یہی صورت مشرک کی آخرت کے متعلق ہوتی ہے۔ بظاہر آخرت کو مانتا ہے لیکن وہ آخرت کے دن کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کو بلا شرکت غیرے حاکم ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس کا عقیدہ ہوتا ہے کہ آخرت میں فلاں اور فلاں بزرگ ہمیں چھڑوا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کی بات ماننے پر مجبور ہوگا۔ اس حوالے سے مشرک نہ صرف دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی اس کا یہی اعتقاد ہوگا حدیث شریف میں آیا ہے کہ محشر کے میدان میں ایک مرحلہ ایسا آئے گا جب اللہ تعالیٰ مشرکوں کو موقع دیں گے کہ وہ دنیا میں جس جس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے تھے ان کے پاس جانا چاہیں تو چلے جائیں۔ مشرک اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے معبودوں اور باطل خداؤں کے پاس چلے جائیں گے بخاری کتاب التفسیر سورۃ النساء تیسری وجہ مشرکوں کے ساتھ قتال کرنے کی یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہ اپنے باطل دین کو چھوڑ کر دین حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے ساتھ بھی قتال فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔ کیونکہ انھی جرائم کا ارتکاب وہ بھی کرتے ہیں لہٰذا ان کے خلاف بھی قتال فی سبیل اللہ ہونا چاہیے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھوں سے جزیہ دینے کی ذلت گوارا کریں۔ یہاں یہ ارشاد نہیں فرمایا کہ ان کے خلاف قتال کرو یہاں تک وہ دین حق قبول کرلیں بلکہ جزیہ قبول کرنے کا ذکر کیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اگر وہ خوش دلی سے دین قبول نہیں کرتے تو انھیں اسی حال پر رہنے دیجیے مگر اسلامی حکومت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے انھیں جزیہ ادا کرنا ہوگا۔ جزیہ ادا کرنے کی اہل علم نے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ جن میں بنیادی اور مرکزی یہ وجہ ہے کہ اسلامی حکومت ان کے حقوق پورے کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے اس لیے ان سے معمولی جزیہ بطور ٹیکس وصول کیا جائے گا تاہم عورتیں، بچے، بوڑھے اور معذور لوگ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ یہاں تک کہ دشمن کے خلاف جنگ ہو تو اسلامی حکومت ان کو جنگ میں شریک ہونے پر مجبور نہیں کرسکتی یاد رہے حضرت عمر (رض) نے اپنے دور میں نہایت ہی معمولی جزیہ مقرر کیا تھا اس کے باوجود شام کے علاقے میں جب مسلمانوں نے فوجی حکمت عملی کے تحت حمص کا علاقہ چھوڑا تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رض) جو اس محاذ کے کمانڈر تھے انھوں نے تمام جرنیلوں کو حکم دیا کہ جو جزیہ غیر مسلموں سے وصول کیا گیا ہے اس کی ایک ایک پائی واپس کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جس پر غیر مسلموں کا رد عمل تھا کہ وہ تورات اور انجیل کو ہاتھوں میں اٹھا کر آسمان کی طرف منہ کرتے ہوئے یہ دعا کر رہے تھے جب تک ہم زندہ ہیں مسلمانوں کے سوا کوئی اور لوگ یہاں نہ آنے پائیں گے۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کردیے اور ہر جگہ پہرہ بٹھادیا۔ عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا خدا کی قسم تم رومیوں کی نسبت کہیں بڑھ کر ہم کو محبوب ہو۔ (الفاروق) یہاں ” صَاغِرْوُنَ“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی ذلیل اور چھوٹا ہونا ہے۔ بعض لوگ اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام اپنی غیر مسلم رعایا کو ذلیل کرکے رکھنا پسند کرتا ہے حالانکہ اس کا یہ مفہوم نہیں اس کا صرف اتنا مطلب ہے کہ جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کے رسول کی غلامی قبول کرنے سے انکار کردیا ہے تو اللہ اور اس کے رسول کے باغیوں کو اسلامی مملکت میں دندنا کر پھرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے البتہ انھیں ایک شہری اور انسان ہونے کے ناطے سے پورے تحفظ اور مکمل حقوق دیے جائیں گے۔ مسائل ١۔ اللہ اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں سے قتال کرنا چاہیے۔ ٢۔ دین حق کو نہ ماننے والوں سے بھی قتال کرنا چاہیے۔