سورة التوبہ - آیت 23

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے باپوں اور بھائیوں کو دوست نہ بناؤ، اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر سے محبت رکھتے ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا وہی لوگ ظالم ہیں۔ (٢٣)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کا حق تب ادا ہوسکتا ہے جب مومن اللہ ہی کے لیے محبت کرے اور اسی کی خاطر کسی سے دشمنی رکھے۔ قرآن مجید نے مختلف الفاظ اور انداز میں یہ بات بار بار باور کروائی گئی ہے کہ مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے ساتھ قلبی محبت نہیں رکھنی چاہیے۔ جس کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایمان اور مسلمانوں کو ہر چیز سے مقدم سمجھا جائے یہی امت کو متحد اور منظم رکھنے کا آخری اور بنیادی اصول ہے۔ اس کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ اے مسلمانو! اگر تمھارے والدین اور بھائی ایمان پر کفر کو ترجیح دینے والے ہوں تو انھیں بھی اپنا رشتہ دار اور خیر خواہ مت سمجھو اگر تم نے اس حکم کے باوجود ان سے قلبی دوستی اور رشتے ناطے قائم رکھے تو پھر تم بھی ظالموں کے ساتھ شمار کیے جاؤ گے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر یہ بات سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوائی گئی ہے کہ آپ واشگاف اعلان فرمائیں کہ اے مسلمانو! اگر تمھارے والدین، بیٹے، بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارے رشتے دار اور جو مال تم کماتے ہو، تجارت جس کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے مکانات جو تمھیں بہت پسند ہیں اللہ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مسلمان نافرمان ہیں۔ جنکی وہ کبھی رہنمائی نہیں کرتا۔ مال عزت کا باعث اور زندگی گزارنے کا مستحکم ذریعہ ہے مال کی بڑھوتری کے لیے تجارت لازمی چیز