وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
” اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے ؟ بے شک میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتاہوں۔
ف 5 اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کاا بطال کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقا ئد پر تنقید کی گئی اب شرک کی تردید کے لیے حضرت ابراہیم کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا ہے کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بیزار تھے اور مسلمانوں کوسمجھایا کہ دیکھو انہوں نے کس طرح قوم سے علحدگی اختیار کی، مشرکین مکہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے دعویدار تھے، جب ابراہیم موحدّ تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کون سی دلیل باقی رہ جاتی ہے حضرت ابراہیم کے قصہ کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اوپر جو فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کافروں سے کہیں کہ ہم دیوانے کی طرح بہکتے نہیں اس پر آگے قصہ فرمایا حضرت ابراہیم کا کہ جب اپنے نزدیک معبود بر حق پالیا پھر قوم کے بہکائے نہ بہکے (موضح) علمانے انساب کی اکثریت نے حضرت ابراہیم کے والد کا نام’’ آرخ یا تارخ ‘‘لکھا ہے ممکن ہے آرخ نام ہو اور’’ آزر‘‘ لقب ہو مجاہد کہتے ہیں کہ آزر ایک بت کا نام تھا شاید اس کی خدمت میں زیادہ رہنے کی وجہ سے خودان کا نام بھی آزر پڑگیا ہو واللہ اعلم ( ابن کثیر )