الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ۘ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
” وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا سو وہ ایمان نہیں لاتے۔“
ف 13 یعنی اسکے سچے رسول ہونے میں انہیں کوئی شبہ نہیں (دیکھئے بقرہ آیت 146) ف 1 وپر گزر چکا ہے کہ کفار نے یہود ونصاریٰ سے آنحضرت (ﷺ) کے متعلق جب استفسار کیا تو انہوں نے آپ کی نبوت سے انکار کیا چنانچہ ان کے جواب میںİقُلۡ أَيُّ شَيۡءٍ......الخĬ ۔ نازل ہوئی آپ کو اس آیت میں بتایا گیا کہ اہل کتاب جھوٹ بولتے ہیں کہ آنحضرت (ﷺ) کی نبوت کا ذکر تورات میں نہیں ہے یہ تو آنحضرت (ﷺ) کے صدق نبوت کو پورے یقین سے جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار کر رہے ہیں ایسے لوگوں سے ایمان کی امید نہیں ہاں جن لوگوں کے دلوں میں اخلاص ہے وہ ضرور ایمان لے آئیں گے (رازی )