سورة محمد - آیت 26

ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لِلَّذِينَ كَرِهُوا مَا نَزَّلَ اللَّهُ سَنُطِيعُكُمْ فِي بَعْضِ الْأَمْرِ ۖ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِسْرَارَهُمْ

ترجمہ فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہا ہے کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری بات مانیں گے اور اللہ ان کے رازوں کو جانتا ہے۔

تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح

ف 10 یعنی مشرکوں اور یہودیوں سے۔ ف 11 ” بعض باتوں“ سے مراد آنحضرت کی مخالفت اور عداوت ہے اور یہ کہ جب جنگ کا موقعہ آئےتو مسلمانوں کو دھوکا دیا جائے اور ہر طریقہ سے ان کے دشمنوں کی مدد کی جائے۔ ف 1 یعنی ان کی سرگوشیوں اور سازشوں کو جنہیں وہ چھپ کر کرتے ہیں، خوب جانتا ہے۔